• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ پر مصنوعی اکثریت کی دعویدار نسل پرست حکومت قابض، شہری سندھ محروم، خالد مقبول

کراچی(اسٹاف رپورٹر)متحدہ قومی موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ سندھ پر مصنوعی اکثریت کی دعویدار نسل پرست حکومت قابض،شہری سندھ محروم ہے، اسلام آباد  سن لے اقتدار کا راستہ ہمارے دروازے سے ہو کر گزرتا ہے، اب فیصلہ کرنا ہوگا  ایم کیو ایم میں کس کو کیا دیا جائے، پاکستان بنانے والوں کی قربانیوں جدوجہد اور تاریخی کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، جن لوگوں نے برصغیر کی تقسیم کے لئے لیے اپنے خون کی قربانی دی اپنے گھر بار چھوڑے اور ایک نئے وطن کی بنیاد رکھی پاکستان پر سب سے پہلا حق انہی کا ہے، ایم کیو ایم تحریکِ پاکستان کا تسلسل ہے اور پاکستان بنانے والوں کی اولادیں آج بھی اس ملک کو حقیقی معنوں میں مضبوط مستحکم اور خوشحال بنانے کی جدوجہد کر رہی ہیں، میرپور خاص میں ایک بڑے عوامی اجتماع میں پرتپاک استقبال کرنے پر خیر مقدم کرتے ہوئے اپنے خطاب میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آج ایوانِ پاکستان یہاں جمع ہے، ہم محض وقتی وابستگی کی بنیاد پر پاکستانی نہیں بلکہ ارادی نظریاتی اور جذباتی پاکستانی ہیں، انہوں نے کہا کہ جہاں ہم کھڑے ہوتے ہیں، پاکستان وہاں سے شروع ہوتا ہے کیونکہ پاکستان محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک نظریہ ایک تاریخی جدوجہد اور لاکھوں قربانیوں کا حاصل ہے، چیئرمین ایم کیو ایم نے کہا کہ اب ہمیں اپنے اجداد کا پاکستان واپس لینا ہے، اگر ہم نے اپنے حصے کا پاکستان واپس لے لیا تو ان لوگوں کے سیاسی دعوے اور مصنوعی اکثریت کے تصورات خود بخود بے معنی ہو جائیں گے جو عوامی مینڈیٹ اور تاریخی حقائق کو نظرانداز کرکے اقتدار پر قابض رہنے کی کوشش کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم نے ہندوستان کی تقسیم پر اپنے خون سے مہر ثبت کی لیکن افسوس کہ بعد میں بعض قوتوں نے اس تاریخی جدوجہد پر کالک ملنے کی کوشش کی، پاکستان کے قیام کے لئے لاکھوں انسانوں نے جانوں کی قربانیاں دیں خاندان اجڑے گھر بار لٹے اور ہجرت کی صعوبتیں برداشت کی گئیں ان قربانیوں کو تاریخ کے صفحات سے مٹایا نہیں جا سکتا اور نہ ہی پاکستان بنانے والوں کے حقِ ملکیت اور حقِ نمائندگی سے انکار کیا جا سکتا ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ مہاجر کوئی لسانی شناخت نہیں بلکہ ایک تاریخ ہے، پاکستان کے قیام کی جدوجہد میں جن لوگوں نے قائداعظم کی قیادت میں اپنا سب کچھ قربان کیا انہوں نے نہ صرف ایک ملک حاصل کیا بلکہ اس ملک کو چلانے سنوارنے اور بچانے کا نظریہ بھی دیا، انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے ایوانوں میں ایسے لوگوں کو بھیجا جو کبھی ٹیوشنز پڑھا کر اپنی گزر بسر کرتے تھے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری سیاست کا محور مراعات یافتہ طبقہ نہیں بلکہ عام آدمی اور متوسط طبقہ ہے، چیئرمین ایم کیو ایم نے کہا کہ اقتدار ہماری مجبوری نہیں اقتدار ہمارے مینڈیٹ کا محتاج ہے، انہوں نے کہا کہ جو لوگ آج سڑکوں کو سجائے بیٹھے ہیں وہی ایوانوں کے حقیقی وارث ہیں، ایم کیو ایم کسی سے اقتدار کی بھیک مانگنے والی جماعت نہیں بلکہ عوامی مینڈیٹ اور سیاسی قوت رکھنے والی جماعت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم نوازنے والی جماعت ہے مانگ کر لینے والی نہیں، جبکہ ہماری طاقت کرائے کے افراد یا مصنوعی ہجوم نہیں بلکہ عوام کی حقیقی وابستگی اور نظریاتی قوت ہے، انہوں نے کہا کہ اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ایم کیو ایم میں کس کو کیا دیا جائے اس شخص کو جو صرف زبان سے اپنے لئے مطالبات پیش کرے یا اسے جو اصول نظریے اور عوامی مفاد کی خاطر ذاتی مفاد سے دستبردار ہونے کا حوصلہ رکھتا ہو، انہوں نے کہا کہ کسی کی اتنی حیثیت نہیں کہ اسے محض سیاسی سازشوں کے ذریعے گرایا جا سکے، ایم کیو ایم غیر ضروری تنازعات اور فالتو باتوں میں الجھنے کے بجائے اپنے سیاسی سفر اور عوامی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ یہ مجمع جہاں کھڑا ہو جائے، وہاں پاکستان بن جاتا ہے، ایم کیو ایم دوسروں کی بدعتوں کو اپنی سنت بنانے پر یقین نہیں رکھتی اور نہ ہی اس کی سیاسی تربیت موقع پرستی مصلحت پسندی یا وقتی مفادات کے گرد گھومتی ہے، انہوں نے کہا کہ کوئی ایم کیو ایم سے ہٹ کر اپنا ایسا کارنامہ دکھا دے جس کا موازنہ اس جماعت کی سیاسی جدوجہد اور عوامی نمائندگی سے کیا جا سکے، انہوں نے کہا کہ اب پاکستان کو درست معنوں میں آزادی دلانے کا وقت آ پہنچا ہے، آزادی کا مطلب صرف ایک دن پرچم لہرانا نہیں بلکہ ہر شہری کو اس کا آئینی سیاسی معاشی اور انسانی حق دینا بھی ہے، انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں گنا نہیں گیا تو ہمیں تولنا پڑے گا کیونکہ عوامی طاقت کو نظرانداز کرکے دیرپا سیاست نہیں کی جا سکتی، چیئرمین متحدہ نے کہا کہ کوئی ایم کیو ایم کے بغیر کونسلر بھی بن کر دکھا دے کیونکہ شہری سندھ کی سیاست میں ایم کیو ایم کا عوامی کردار کسی سے پوشیدہ نہیں، انہوں نے کہا کہ ہم اور آپ برصغیر کی سب سے ارتقاء یافتہ قوم ہیں جس نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

اہم خبریں سے مزید