• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملک بھر میں بارشیں، اموات 108 ہوگئیں، دریاؤں میں نچلے درجے کا سیلاب

لاہور،شیخوپورہ،ساہیوال/سرگودھا،چنیوٹ پشاور (نیوز رپورٹر ،نمائندگان جنگ و نامہ نگاران) ملک بھر میں بارشیں، اموات 108ہوگئیں، سب سے زیادہ اموات خیبرپختونخوا میں 32ہوئیں جبکہ پنجاب میں 29شہری جاں بحق ہوئے،دریائوں میں نچلے درجے کا سیلاب ،دریائے سندھ میں کالاباغ، چشمہ اور تونسہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ، مون سون بارشوں کے باعث پنجاب کے مختلف دریاؤں میں سیلابی صورتحال برقرار ہے، تاہم دریاؤں کے بہاؤ میں مجموعی طور پر استحکام دیکھا گیا، جبکہ دریائے چناب میں طغیانی میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔چنیوٹ میں سیلابی ریلے نے تباہی مچادی ، جہلم میں نالے کا بند ٹوٹنے سے آبادیاں محصورہو کر رہ گئیں۔متعدد بستیاں زیرآب،فصلیں تباہ،مظفرگڑھ میں دریائے چناب کے مقام پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ محکمہ موسمیات نے اتوار کو جاری کردہ اپنی تازہ موسمی پیش گوئی میں کہا 29 جولائی سے ملک کے بالائی علاقوں میں مون سون بارشوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے،اس دوران بڑے دریاؤں کے بالائی علاقوں، اسلام آباد، بالائی پنجاب، کشمیر، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے علاقوں میں بارشیں متوقع ہیں، مالا کنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں شدید بارشیں، لینڈ سلائڈنگ اور فلیش فلڈنگ کا خدشہ ہے، دوسری جانب پشاور اور گرد و نواح میں دو روز کے وقفے کے بعد بارش کا سلسلہ جاری رہا۔نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق 26 جون سے اب تک ملک بھر میں شدید مون سون بارشوں کے نتیجے میں کم از کم 108 افراد جان سے گئے جبکہ 344 زخمی ہو چکے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب میں حالیہ بارشوں سے 29 شہری جاں بحق ہوئے۔ خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں میں مسلسل بارشوں کے باعث دریائے کابل اور دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوگیا، جبکہ نوشہرہ کے علاقے کنڈ خیر آباد میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مالا کنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں شدید بارشیں، لینڈ سلائڈنگ اور فلیش فلڈنگ کا خدشہ ۔ ہیڈ تریموں سے آنے والا ایک لاکھ 60 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا مظفرگڑھ سے گزر رہا ہے، جس کے باعث موصغ لال پور اور موضع سنکی کی نشیبی بستیاں زیرِ آب آ گئی ہیں جبکہ سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلات کو بھی نقصان پہنچا ہے، ضلعی انتظامیہ کے زرائع کے مطابق انتظامیہ صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہے،دریا سے ملحقہ نشیبی بستیوں اور بیٹ کے علاقے کو لوگوں کو انتظامیہ نے پہلے ہی سے خبردار کرکے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کردی تھی ۔پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق مرالہ کی مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 43 ہزار،خانکی کے مقام پر 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک، جبکہ قادر آباد کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 35 ہزار کیوسک ہے، تریموں میں پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 84 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریائے ستلج اور جہلم میں پانی کا بہاؤ نارمل ہے، دریائے راوی میں بلوکی اور سرھنائی کے مقام پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔ نارروال نالہ بسنتر میں درمیانے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے، بریج ناکہ ایک میں نچلے درجے وزیرہ آباد نالہ پھلکو میں اونچے درجے کا سیلاب ہے، نالہ پھلکو میں پانی کا بہاؤ 5 ہزار کیوسک ہے، نارووال نالہ بسنتر میں نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔لاہور روڈ کے علاقہ پٹھان کالونی میں نالہ ڈیک میں طغیانی کے باعث جمع ہونے والے پانی میں نہاتے ہوئے دو افغانی لڑکے ڈوب کر جاں بحق ہو گئے جن کی شناخت 13 سالہ لقمان خان اور 15 سالہ دانیال خان کے نام سے ہوئی ہے ان کے ورثاء سراپا احتجاج بن گئے جنہوں نے شدید نعرے بازی کی اور دونوں لڑکوں کی لاشوں کو سڑک پر رکھ کر جی ٹی روڈ کی ٹریفک بلاک کر دی ۔تاہم انتظامیہ کی یقین دہانی کے بعد لوگ گھروں کو جانے پر آمادہ ہوگئے۔تحصیل ساہی وال کے گاؤں ربانہ میں مسلسل بارش کے باعث ایک گھر کی چھت اچانک گر گئی، جس کے نتیجے میں ایک خاتون نسرین جاں بحق جبکہ سکینہ بی بی شدید زخمی ہو گئی۔ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں نورپور تھل میں 115، گوجرانوالہ 107، گجرات 94، نارووال 68، منڈی بہاوالدین 65، سیالکوٹ ایئرپورٹ 52، اوکاڑہ 46، جوہرآباد 40 اور سرگودھا میں 38 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔لاہور 37، منگلا 37، جہلم 32، شیخو پورہ 28، حافظ آباد اور قصور 27، چکوال 20، بہاولنگر 18 اور خانیوال میں 16 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی۔لاہور میں 5 روز کے دوران مجموعی طور پر 450 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان،، اٹک، مری اور بہاولپور میں بھی بارش ریکارڈ کی گئی۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں کے باعث 52 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے جبکہ 6 مویشی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ نے مون سون کے تیسرے سپیل کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ اور فلیش فلڈنگ کا خدشہ موجود ہے، اس لیے متعلقہ ادارے پیشگی اقدامات یقینی بنائیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے مطابق زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔حکومت پنجاب کی پالیسی کے تحت جاں بحق افراد کے لواحقین کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق دریائے سندھ پر تربیلا ڈیم میں پانی کی آمد بڑھنے کے بعد ڈیم کے اسپل ویز کھول دیے گئے ہیں، جس کے باعث کنڈ خیر آباد کے مقام پر دریائے سندھ اور دریائے کابل کے سنگم پر پانی کی سطح بلند ہوگئی ۔ ضلعی انتظامیہ نے ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر دونوں دریاؤں کے کناروں پر آباد افراد کو آگاہ کرتے ہوئے شہریوں کو دریاؤں کے کناروں سے دور رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔دوسری جانب پشاور اور گرد و نواح میں دو روز کے وقفے کے بعد بارش کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔ بارش کے ساتھ ہلکی ہوائیں بھی چل رہی ہیں جس سے موسم خوشگوار ہوگیا ہے محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا یہ سلسلہ 29 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ محکمہ نے خبردار کیا ہے کہ پیش گوئی کے دوران مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن کے حساس علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ، تودے گرنے اور فلیش فلڈنگ کا خدشہ ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم جزوی طور پر ابر آلود اور مرطوب رہے گا۔ چترال، اپر و لوئر دیر، سوات، شانگلہ، مالاکنڈ، بونیر، باجوڑ، اپر و لوئر کوہستان میں اکثر مقامات پر آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے، جبکہ کولائی پالس، تورغر، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، مہمند، خیبر اور کرم میں بھی تیز ہواؤں، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی دوران مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویڑن کے چند مقامات پر موسلادھار بارش بھی ہوسکتی ہے، جبکہ ہری پور، صوابی، مردان، پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، کوہاٹ، اورکزئی، ہنگو، کرک، لکی مروت، بنوں، ٹانک اور شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں بھی آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔قبل ازیں پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق دریائے سندھ میں کالا باغ، چشمہ اور تونسہ کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔

اہم خبریں سے مزید