• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نئے صوبوں کا قیام، واضح طریقہ کار آئین میں درج کروانے کی فیصلہ کن جدوجہد کا آغاز، مصطفیٰ کمال

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان نے ملک میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کا واضح طریقہ کار آئین پاکستان میں درج کرانے کی فیصلہ کن جدوجہد کا آغاز کردیا۔ ایک وزیراعظم اور چار وزرائے اعلی والا پاکستان نہیں چل رہا۔ملکی نظام بدلنا چاہتے ہیں،ہم پر جمہوری دہشت گردی ہورہی ہے۔ ایک شخص کے پاس پورے صوبے کے اختیارات ہیں لیکن وہ نیچے منتقل نہیں کررہا ۔ حکمرانو! بتائو اس نظام اور حکمرانی کو چلانے کیلئے اور کتنے بچوں کو گٹروں میں گرنا ہے۔ ڈیڈ لائن دو ہمیں کب تک مرنا ہے۔آئین میں تبدیلی چاہتے ہیں ہماری بات پارلیمان نہیں مان رہی اس لئے سڑکوں پر ہیں، کراچی والے کھڑے ہو جائیں تو بڑے بڑے طوفانوں کا رخ بدل دیتے ہیں، آج سے حقوق کیلئے تحریک کا آغاز سڑکوں سے کر رہے ہیں۔ وہ اتوار کی شب شاہ فیصل کالونی کے عید گاہ گرائونڈ میں سندھ حکومت اور پی پی کے خلاف ہونے والے ایک بڑےفقید المثال جلسے سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ملکی نظام بدلنا چاہتے ہیں ہمیں جبر کے اس نظام سے دشمنی ہے، ایک وزیراعظم اور چار وزرائے اعلی والا پاکستان نہیں چل رہا ہم پر جمہوری دہشت گردی ہورہی ہے ایک شخص کے پاس پورے صوبے کے اختیارات ہیں لیکن وہ نیچے منتقل نہیں کررہا یہ نظام نوجوانوں کو پاکستان سے بدظن کررہا ہے اس برائے نام جمہوری نظام سے ، بددیانتی کی وجہ سے کوئی ہتھیار اٹھا لیتا ہے تو پھر یہ پاک فوج کو بلاتے ہیں کہ اس نوجوان نے ہتھیار اٹھا لیا ہے ، اب اس سے آکر لڑو،انہوں نے کہا کہ ابھی ہماری نیٹ پریکٹس ہے میچ شروع نہیں ہوا،اب یہ ایم کیوایم لیاقت آباد کی نہیں لیاری سہراب گوٹھ کی بھی ہے،ہم پاکستان کو بنانے اور بچانے کی تحریک شروع کررہے ہیں ہم اس آئین میں تبدیلی چاہتے ہیں ہماری بات پارلیمان نہیں مان رہی اس لئے سڑکوں پر ہیں اور جب کراچی والے کھڑے ہو جائیں تو بڑے بڑے طوفانوں کا رخ تبدیل کر دیتے ہیں آج سے حقوق کے لئے اپنی تحریک کا آغاز سڑکوں سے کر رہے ہیں، وفاقی وزیر کا عہدہ بہت بڑا ہوتا ہے وفاقی وزرات ایک ذمے داری ہے میرے سامنے شہر برباد ہورہا ہے کوئی اسکو لوٹ رہا ہے تو مجھے گنوارا نہیں ہمارے پاس عہدے ، طاقت کی کمی نہیں اس لئے یہی وقت ہے آواز لگانے ، جدوجہد کرنے کا ظالم بہت کمزور ہے،اس نظام میں مصطفی کمال وفاقی وزیر ہے ، میں لعنت بھیجتا ہوں ایسی وفاقی وزارت پر میں ایسے نظام کو نہیں مانتا جس میں حقوق عوام کو نہ دئیے جائیں مجھ سے چھین لو وفاق وزارت ، لیکن میرے لوگوں کو اختیارات اور وسائل دو ،کراچی پورے ملک کو ستر فیصد ریونیو دیتا ہے دودھ دینے والی گائے کو چارا تو کھلائو ارباب اختیار اس شہر کو آزادی دو ، اختیار دو ،اٹھارہ سال سے اس شہر میں نسل کشی ہو رہی ہے ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہمیں اپنے بچوں کو پیاسا مرتا دیکھنا ہے کیا بے روزگاری کے باعث خودکشی کرتے دیکھنا ہے یا ہم نے جیتے جاگتے انسانوں کی طرح قانون کی حدود میں رہتے ہوئے جدوجہد کرنی ہے ہم کو فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں مارنے والا نظام چلے گا یا پھر اس نظام کو اکھاڑ کر پھینکنا ہے اس آئین میں وہ تمام شقیں شامل کرانی ہیں جو ہماری عوام کو تحفظ دے سکیں،پاکستان میں ایک طبقہ وہ ہے جو حقوق حاصل کرنے کے لئے پاکستان کو نہیں مان رہا وہ آئین ، پرچم ، اداروں کو نہیں مان رہا وہ قانون اور ہتھیار ہاتھ میں لے کہ لڑ رہا ہے ، حقوق کے نام پر بغاوت کررہا ہے یہ اجتماع پاکستان بنانے والوں کی اولادوں کا اجتماع ہے ہماری رگوں میں پاکستان دوڑتا ہے ہم آئین ، پاکستانی ریاست اور اداروں کے خلاف کوئی بات نہیں کررہے ہمیں اپنی انگلی نسلوں کے لئے حقوق اور اچھا مستقبل چاہیے،بائیس ہزار ارب روپے سندھ کے حکمرانوں کو ملے ہیں،اپنی نظامت کے دور میں میں نے تین سو ارب خرچ کئے تو کراچی بارہ ترقی یافتہ شہروں میں شامل ہوگیا ،اب یہ شہر چار بدترین ناقابل رہائش رہنے والوں میں شامل ہے،وفاق ہمارے پیسے نہیں روک رہا وہ ہمارے پیسے دے رہا ہے ہمارے نام پر ملک کی صوبائی حکومتیں ملنے والے پیسے ہم پر خرچ نہیں کررہی ہمیں مسئلہ اس نظام سے ہے ،وزیراعظم ، ریاستی اداروں سے کہتا ہوں کہ اس نظام میں فرشتے بھی لا کر بٹھا دیں تو دیلیور نہیں کرسکتے، سارے ملک کے اختیارات ایک وزیراعظم اور چار وزرائے اعلی کے پاس ہیں جو اس نظام میں طاقتور ہیں ، ہمیں اس نظام میں تبدیلی چاہیے ، آئین پاکستان میں ہمارے حقوق نہیں لکھے گئےاس میں لکھا ہے کہ تمھارے نام پر وزیر اعلی پیسے لے گا ،مگر کیا وہ یہ رقم یوسی کو ، کونسلر کو دے رہا ہے ،نعروں سے حقوق نہیں ملیں گے ہمیں اپنے حقوق اس کتاب میں درج کرانے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید