اسلام آباد (صالح ظافر) بنگلہ دیش نے وقت کے تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی جدید اور ٹیکنالوجی پر مبنی فوج تشکیل دینے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان نے اتوار کی صبح ڈھاکہ میں کہا کہ بنگلہ دیش کو اس وقت پیچیدہ اور کثیرالجہتی سیکورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں سمندری اور سرحدی سلامتی، بین الاقوامی اور سرحد پار خطرات، سائبر اور معلوماتی سلامتی، قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت، اور انسانی امداد شامل ہیں۔ انہوں نے یہ اعلان بنگلہ دیشی فوج کے سربراہ جنرل وقار الزماں کی موجودگی میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے نتیجے میں اب وقت کا تقاضا ہے کہ بنگلہ دیش کے جغرافیائی محل وقوع، معاشی صلاحیت، قومی سلامتی کی ضروریات، اور عوام کی توقعات و برداشت کو مدنظر رکھتے ہوئے دفاعی جدیدکاری کے لیے ایک حقیقت پسندانہ اور پائیدار ماڈل اپنایا جائے۔ وزیر اعظم بنگلہ دیش نے یہ بات ڈھاکہ کینٹونمنٹ میں آرمی ہیڈکوارٹرز سلیکشن بورڈ 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر دفاع کی حیثیت سے میرا یقین ہے کہ بنگلہ دیش کے دفاع کی طاقت صرف مسلح افواج کی صلاحیتوں میں نہیں، بلکہ پوری قوم کے اتحاد، تیاری اور ثابت قدمی میں بھی ہے۔ طارق رحمان نے کہا کہ شہید صدر لیفٹیننٹ جنرل ضیاء الرحمٰن کے وژن کو مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ حکومت ایک جدید پالیسی تشکیل دے گی، جس کے تحت مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے ادارے، سول انتظامیہ، صنعت، ٹیکنالوجی، تعلیمی ادارے اور ملک کے عوام ایک مربوط قومی سلامتی کے فریم ورک کے تحت مل کر کام کریں گے۔