• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارتی فنڈنگ سے چلنے والا منظم ڈیجیٹل پروپیگنڈا نیٹ ورک بے نقاب

اسلام آباد (نیوز رپورٹر) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان، ریاستی اداروں، مسلح افواج اور قومی قیادت کیخلاف بھارتی فنڈنگ سے چلنے والا منظم ڈیجیٹل پروپیگنڈا نیٹ ورک بے نقاب ہوا ہے جو ڈیجیٹل مارکیٹنگ سروسز اور بوٹ فارمز کے ذریعے گمراہ کن معلومات پھیلا رہا تھا، گرفتار شخص سے حاصل معلومات، ڈیجیٹل ریکارڈ اور تکنیکی شواہد سے اس نیٹ ورک کے بیرونی روابط سامنے آئے ہیں جبکہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے متعلق مواد کو بھی منظم انداز میں فروغ دیا گیا، گمراہ کن پروپیگنڈا کرنے والا شخص گرفتار ہے جس سے تحقیقات جاری ہیں ،کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا الیکشن میں حصہ نہ لینا بھارت نواز ہونے کا ثبوت ہے ۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی پاکستان اور کشمیر کے تاریخی رشتے کو چیلنج کر رہی ہے، دوسری جانب حکومت اور کالعدم جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد کمیٹی نے آج 27 جولائی کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے کہا کہ پاکستان کے سیکورٹی اداروں نے کچھ عرصہ قبل ڈیجیٹل مارکیٹنگ سروسز فراہم کرنے والے ایک شخص کو گرفتار کیا ، تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ شخص سوشل میڈیا پر ڈیجیٹل مارکیٹنگ سروسز فراہم کر رہا تھا جسکے تانے بانے انڈیا سے ملتے ہیں، اس شخص کے ذریعے مواد کو پاکستان میں وائرل کرنے کے لیے انڈیا سے ادائیگیاں کی جا رہی تھیں۔ اتوار کو خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عطاء تارڑ نے گرفتار شخص سے معلومات تک رسائی حاصل کی گئی تو پتہ چلا کہ مس انفارمیشن کا پورا نیٹ ورک بوٹ فارمز کے ذریعے آپریٹ ہو رہا تھا جسکے ذریعے پاکستان، پاکستان کی سا لمیت، حکومت، فوج اور اداروں کے خلاف مواد وائرل کیا جا رہا تھا۔ اس شخص نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ اسے زیادہ مواد آزاد کشمیر میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے حوالے سے مل رہا تھا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ہم شروع سے ہی کہہ رہے تھے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا مقصد کشمیر کاز کو نقصان پہنچانا اور پاکستان و کشمیری عوام کے درمیان تعلق کو کمزور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام سرگرمیاں ایک منظم سازش کا حصہ ہیں اور ان کا نہ تو کشمیر کاز سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی کشمیری عوام کے مفادات سے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ عناصر واقعی کشمیر اور کشمیر کاز سے مخلص ہیں تو یہ پھر یہ انتخابی عمل کا حصہ کیوں نہیں بنتے؟ انتخابات میں حصہ کیوں نہیں لیتے؟ اور عوام کے حقوق کے لئے جمہوری و آئینی طریقے سے آواز کیوں نہیں اٹھاتے؟ انہوں نے کہا کہ ان کی سرگرمیوں میں چاہے مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ ہو یا پرتشدد احتجاج، انہوں نے ہر موقع پر تشدد کی سیاست کو فروغ دیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کو کوئی کمزور نہیں کر سکتا۔ علاوہ ازیں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ آزاد کشمیر میں جو لوگ پاکستان اور پورے کشمیر پر جو سوالیہ نشان لگا رہے۔ ان کا کشمیر کی آزادی میں کوئی حصہ نہیں جس طرح میرا بھی پاکستان کی آزادی میں کوئی حصہ نہیں مجھے گھر بیٹھے آزادی کی نعمت ملی میری پیدائش قیام پاکستان کے دو سال بعد کی ہے۔سیالکوٹ میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے حلقہ ایل اے 36 جموں 3 کی انتخابی مہم سے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قائد ملت آزاد کشمیر غلام عباس نے پاکستان کی انہی سیٹوں پر الیکشن لڑا جسکو یہ ختم کرنا چاہتے ہیں جو نہیں ہوگا۔ دوسری جانب حکومت اور کالعدم جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد کمیٹی نے 27 جولائی کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن کے مطابق مذاکرات کے دوران کمیٹی نے کالعدم قرار دینے کا فیصلہ فوری واپس لینے اور کارکنوں کے خلاف درج مقدمات ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
اہم خبریں سے مزید