• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جدید طبی ٹیکنالوجی بھی انسانی عمر 194 سال سے آگے نہیں بڑھا سکے گی، نئی تحقیق

کراچی (نیوز ڈیسک) نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے جدید طبی ٹیکنالوجی بھی انسانی عمر 194 سال سے آگے نہیں بڑھا سکے گی، جینیاتی تبدیلیاں عمر کی حد مقرر کرتی ہیں، بعض تبدل سے خلیات کو نقصان، بڑھاپا سست ہونے کے باوجود عمر محدود رہیگی۔ جلد اور جگر جیسے اعضا نئے خلیات بنا کر کچھ نقصان کی تلافی کرلیتے ہیں، دل اور دماغ کے خلیات آسانی سے تبدیل نہیں ہوتے بین الاقوامی سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی نئی تحقیق کے مطابق جدید طبی ٹیکنالوجی اور بڑھاپے کی رفتار کو نمایاں طور پر سست کرنے کے باوجود بھی انسانی عمر کی زیادہ سے زیادہ ممکنہ حد تقریباً 146 سے 194 سال تک ہو سکتی ہے۔ محققین نے انسانی جینز اور ڈی این اے میں زندگی بھر ہونے والی جینیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لیا اور بتایا کہ اگرچہ ان میں سے اکثر تبدیلیاں بے ضرر ہوتی ہیں، لیکن وقت کے ساتھ جمع ہونے والی بعض تبدیلیاں خلیات کو نقصان پہنچاتی ہیں، جس سے بڑھاپا اور مختلف بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق جلد اور جگر جیسے اعضا نئے خلیات بنا کر کچھ نقصان کی تلافی کر لیتے ہیں، تاہم دل اور دماغ کے بیشتر خلیات آسانی سے تبدیل نہیں ہوتے، اس لیے ان میں ہونے والا نقصان مستقل رہتا ہے۔ سائنسدانوں نے واضح کیا کہ 194 سال کوئی حتمی یا ثابت شدہ حد نہیں بلکہ موجودہ سائنسی ماڈل کی بنیاد پر ایک نظریاتی اندازہ ہے، جبکہ انسانی عمر کے تعین میں دیگر حیاتیاتی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں جن پر مزید تحقیق جاری ہے۔ دنیا کی سب سے زیادہ عمر پانے والی مصدقہ شخصیت فرانسیسی خاتون جین کالمان ہیں، جنہوں نے 122 سال عمر پائی اور ان کا ریکارڈ آج بھی قائم ہے۔
اہم خبریں سے مزید