کراچی ( رپورٹ : سہیل افضل ) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کے اجلاس میں غیر ہنر مند مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 43 ہزار روپے کر دی گئی،نیم ہنر مند، ہنر مند اور اعلیٰ ہنر مند کارکنوں کی اجرتوں میں بھی متناسب اضافہ ، لیاری کی ترقی، عوامی سہولتوں اور ملازمین کے تحفظ کیلئے اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی جبکہ فیصلہ کیا گیا کہ سندھ حکومت آٹے کی قیمت میں استحکام کے لئے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرے گی ۔ کابینہ نے سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز پروگرام کو گلگت بلتستان تک توسیع دینے کی منظوری دی، جہاں سیلاب سے متاثرہ 196 گھروں کی تعمیرِ نو تقریباً 37 کروڑ 63 لاکھ روپے کی لاگت سے کی جائے گی اجلاس میں حکو متی اراضی کے انتظام سے متعلق مجوزہ سندھ گورنمنٹ لینڈز مینجمنٹ بل 2026 سے متعلق سفارشات کی تیاری کے لئے وزیر قانون، وزیر بلدیات، ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور دیگر پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ کم از کم اجرت میں 7.5 فیصد اضافے ۔سندھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ایکٹ میں ترامیم ۔ معیشت، خزانہ و صنعت، پانی، موسمیاتی تبدیلی اور مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی و ورچوئل اثاثوں سے متعلق 4 اصلاحاتی ٹاسک فورس قائم کرنے ۔سندھ بھر کے ڈپٹی کمشنرز کو سندھ ایویکیو ٹرسٹ پراپرٹیز (مینجمنٹ اینڈ ڈسپوزل) ایکٹ 2021 کے تحت اپنے اپنے اضلاع میں ایویکیو ٹرسٹ املاک کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے ۔ مہران ہائی وے پر بھاری تجارتی گاڑیوں کے لئے ٹول ٹیکس کے نفاذ ۔محکمہ ایکسائز کی گاڑیوں کی رجسٹریشن، ٹیکس اور انشورنس نظام میں اصلاحات کے تحت آف روڈ اور تباہ شدہ گاڑیوں کی ڈی رجسٹریشن پالیسی کی منظوری دی گئی۔ بدھ کو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت کابینہ اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف عباس اور صوبائی حکومت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔