تہران ،کراچی (اے ایف پی، نیوز ڈیسک) ایران نے قطر سے اپنے تین پائلٹ کو چھڑانے کیلئے ریڈ کراس سے مدد کی اپیل کردی ہے ، فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی مسلح افواج کے جنرل محمد باقرزادہ نے کہاکہ جنگ کے دوران ایس یو-24 لڑاکا طیارے گر کر تباہ ہونے کے بعد قطری فورسز نے تین ایرانی پائلٹوں کو زندہ گرفتار کر لیا تھا، ریڈ کراس کے نام اپنے خط میں باقرزادہ نے ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پائلٹوں کو اپنے اہل خانہ سے ملنے یا رابطہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے،قطر نے کہا ہے کہ ایرانی پائلٹوں کو حراست میں رکھنے کا دعویٰ بے بنیاد ہے ، حوثیوں کے حملوں کےبعد یمن کی مخا بندرگاہ میں تجارتی اور سمندری سرگرمیاں معطل کردی گئی ہیں،ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کا بھرپور جواب دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ جلد آبنائے ہرمز کو امریکی ریاست کا حصہ قرار دیں گے، ایران کا کہنا ہے کہ ہرمز ایرانی ہی رہے گا،آبنائے صرف ایران کے حکم پر ہی بند اور کھولی جائے گی، امریکا شکست تسلیم کرے، امریکی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدرٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا بیان محض ایک مذاق تھا،امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جگہ نیا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن تعینات کردیا ہے، سینٹ کام نے بحیرہ عرب میں جہاز کے گشت کرنے کی تصویر بھی جاری کردی ہے۔تفصیلات کے مطابق ایران کے آرمی چیف نے بین الاقوامی کمیٹی آف ریڈ کراس کے نام ایک خط میں بتایا ہے کہ ایران کے تین پائلٹس جواد صالحی، عبدالمجید دشتیاںاور عمران بہراویشیان کو قطری فورسز کی طرف سے چھ ماہ سے قید رکھا گیا ہے۔"خط میں باقرزادہ نے ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پائلٹوں کو اپنے اہل خانہ سے ملنے یا رابطہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔اپنے خط میں بریگیڈیئر جنرل باقر زادہ نے الزام عائد کیا کہ چھ ماہ گزر جانے کے باوجود قطر نے ان قیدیوں کے بنیادی حقوق کا احترام نہیں کیا۔ ان کے مطابق، یہ طرزِ عمل جنگی قیدیوں سے متعلق جنیوا کنونشنز اور دیگر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ متعدد سفارتی کوششوں کے باوجود نہ تو ان قیدیوں کے اہلِ خانہ کو ان سے ملاقات کی اجازت دی گئی ہے اور نہ ہی ان کی حالت سے متعلق کوئی باضابطہ معلومات فراہم کی گئی ہیں۔قطر ی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے X پر کہاہم ایرانی پائلٹوں کی حراست سے متعلق گردش کرنے والے دعوؤں کی قطعی تردید کرتے ہیں اور خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لئے جاری سفارتی کوششوں اور پہل کاریوں کے درمیان اس خاص وقت پر ان گمراہ کن بیانات پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں۔ادھر حوثیوں کے حملوں کےبعد یمن کی مخا بندرگاہ میں تجارتی اور سمندری سرگرمیاں معطل کردی گئی ہیں،بندرگاہ پر گزشتہ چند دنوں میں 25سے زائد میزائل لگے ہیں،یمنی بندرگاہ کے ڈائریکٹر نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ان حملوں میں7افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ اندازے کے مطابق 1 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔