• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ مکہ معاہدے پر خوش، بالآخر مشرق وسطیٰ متحد، سعودیہ، ترکیہ اور پاکستان کو مبارک، امریکی صدر

تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوزڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات پر انتہائی خوشی ہوئی کہ سعودی عرب ‘ترکیہ اور پاکستان نے بالآخر مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں‘یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مشرق وسطیٰ کس طرح متحد ہو رہا ہے اور ممالک بالآخر زیادہ مؤثر انداز میںخود اپنا دفاع کرنے کے قابل ہو جائیں گے‘پاکستان ‘سعودیہ اور ترکیہ کی عظیم قیادت کو مبارکباد‘یہ پہلا بڑا‘ جرات مندانہ اور اہم قدم ہے ‘ صدر ٹرمپ نے جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقیں بھی منسوخ کردیں۔ انہوں نے ایران جنگ میں ساتھ نہ دینے پر جنوبی کوریا پر اپنی برہمی کا اظہار کیا اور شمالی کوریا کے صدر کے ساتھ اپنی قربت اور دوستی کا اظہار بھی کیا۔ادھر حوثی جنگجوؤں نے میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے یمن کے ساحلی شہر المخا پر نئے حملے شروع کر دیے ہیںجبکہ ایرانی فوج نے امریکی فوجیوں کو گرفتار یا قتل کرنے والوں کیلئے 30ہزار ڈالر انعام کا اعلان کردیا‘امریکی نیوزویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق مئی 2026ء میں وائٹ ہاؤس نے پاسداران انقلاب کے ساتھ ایک خفیہ پس پردہ رابطہ قائم کیا تھا‘ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے خبردارکیاہے کہ امریکیوں کے پاس خطے سے نکلنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے اور انہیں اب خلیج فارس‘ بحیرہ عمان‘یا آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘ہرمز پر قبضےکی کسی بھی کوشش پر واشنگٹن کو پچھتانا پڑیگا‘ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ امریکا کے خلاف جنگ میں تہران عسکری اور سیاسی محاذپر حقیقی فاتح بن کر ابھرا ہے جبکہ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہاہے کہ آبی گزرگاہ پر عمان سے بات چیت جاری ہےلیکن یہ مذاکرات اور ہرمز کا دوبارہ کھلنا دو الگ الگ مسائل ہیں‘آبنائے کو دوبارہ کھولنا مفاہمتی یادداشت پرامریکا کے عملدرآمد پر منحصر ہوگا ۔ ادھر ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کسی کے مفاد میں نہیں اور اسے دوبارہ کھولنا ترجیح ہے۔ایرانی نائب صدر محمد رضا عارف نے خبردار کیا ہے کہ دشمن اقتصادی دباؤ ڈال کر اپنی فوجی ناکامیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کر رہا ہےمگرایران میدان جنگ کی طرح اس اقتصادی جنگ میں بھی فتح یاب ہو گا‘ادھر سعودی سول ڈیفنس ایجنسی نے جازان صوبے میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر ایک الرٹ جاری کیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ٹرمپ کے بیان پرردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر کو ہرمز کی بجائے اپنی سکیورٹی کی فکر کرنی چاہیےجبکہ ایران کی مسلح افواج نے دشمنوں کی مکمل شکست تک مزاحمت جاری رکھنے کا عزم ظاہرکیا ہے‘ایران نے اپنے تین لاپتہ پائلٹس کی تلاش کے لیے ماہرین کی ٹیم کو قطر میں داخلے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیاہے ‘تفصیلات کے مطابق اتوار کو صحافیوں کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئےایران کی فوج کے کمانڈر ان چیف امیر حاتمی کاکہناتھاکہ امریکیوں کو مؤثر طریقے سے خطے سے باہر نکال دیا گیا ہے اور انہیں اب خلیج فارس، بحیرہ عمان، یا آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘ہر شخص کو یہ جان لینا چاہیے کہ امریکی اڈے کسی صورت اپنی سابقہ حیثیت میں واپس نہیں آ سکتےاور ایران ہرگز ایسے مراکز کے قیام کی اجازت نہیں دے گا جن کا مقصد ملک کی خودمختاری اور سالمیت کو خطرے میں ڈالنا ہو‘ آگے بڑھنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ امریکی خطے سے نکل جائیں۔ جنرل حاتمی نے کہا کہ آج دنیا میں صرف چند لوگ ہی ٹرمپ کو سنجیدہ لیتے ہیں‘امریکی صدر کا تاثر ایک ہارے ہوئے شخص کا ہے جو ڈر کے مارے فوڈ ٹرک میں چھپ جاتا ہے‘امریکا کی اجارہ داری ختم ہوچکی اور جو ممالک اس پر بھروسہ کرتے تھے وہ اب اپنی سکیورٹی کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید