اسلام آباد (اسرار خان) ریفائنریز اپ گریڈیشن معاہدوں پر دستخط کیلئے تیار، ریفائنریز کی ترمیم شدہ براؤن فیلڈ پالیسی کا خیرمقدم، ڈھائی فیصد جرمانے پر تحفظات۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی آئل ریفائنریز اپنے پلانٹس کو اپ گریڈ کرنے کے لیے طویل عرصے سے تاخیر کا شکار معاہدوں پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم کچھ ریفائنریز نے ڈیزل پر وصول کی جانے والی ڈیمڈ ڈیوٹی کا ڈھائی فیصد حصہ بطور جرمانہ واپس کرنے کی نئی شرط پر اعتراض کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اربوں روپے کے یہ چارجز ایسی تاخیر کی وجہ سے عائد کیے گئے ہیں جس کے وہ خود ذمے دار نہیں تھے۔ ریفائنریز نے حکومت کی ترمیم شدہ براؤن فیلڈ ریفائنری پالیسی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جرمانے کی شرط پر اعتراض کے باوجود معاہدوں پر پیش رفت کے لیے تیار ہیں۔ یہ پالیسی ابتدائی طور پر اگست 2023 میں منظور کی گئی تھی اور اس کے بعد اس میں دو مرتبہ ترمیم کی جاچکی ہے۔ اس کا مقصد پاکستان کے فرسودہ ہوتے ہوئے ریفائننگ انفرااسٹرکچر کو جدید بنانے کے لیے سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔ وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ معاہدوں کو جلد حتمی شکل دے دی جائے گی، جبکہ سیکریٹری پٹرولیم کو امید ہے کہ اگست کے اختتام تک ان پر دستخط ہوجائیں گے۔ سابقہ انتظامات کے برعکس، نئے معاہدے پہلے طے شدہ منصوبے کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے بجائے پیٹرولیم ڈویژن کے تحت انٹر اسٹیٹ گیس سسٹمز کے ساتھ کیے جائیں گے۔ اٹک ریفائنری لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی انرجی کمیٹی کے چیئرپرسن عادل خٹک نے کہا کہ اٹک ریفائنری اور نیشنل ریفائنری نے 22 اکتوبر 2024 کی سابقہ ڈیڈ لائن سے قبل اہم رسمی کارروائیاں مکمل کرلی تھیں، جن میں اوگرا کے ساتھ معاہدوں کے مسودوں پر ابتدائی دستخط، بورڈ کی منظوری حاصل کرنا اور ہر ریفائنری کے لیے ایک، ایک ارب روپے کی بینک گارنٹی کا انتظام کرنا شامل تھا۔ خٹک نے دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’اگر تاخیر ہوئی ہے تو اس کے ذمہ دار ہم نہیں ہیں، لیکن حکومت اب بھی اصرار کر رہی ہے کہ ہمیں ڈیمڈ ڈیوٹی کی ڈھائی فیصد رقم واپس کرنا ہوگی، جو اربوں روپے بنتی ہے۔‘‘ ترمیم شدہ پالیسی کے تحت ریفائنریز کو سابقہ ڈیڈ لائن سے نئے معاہدوں پر دستخط ہونے تک ڈیزل پر برقرار رکھی گئی ڈیمڈ ڈیوٹی کا ڈھائی فیصد واپس کرنا ہوگا۔ خٹک نے کہا کہ اس جرمانے کے نتیجے میں مالی بوجھ خاصا زیادہ ہوگا۔ انہوں نے کہا، ’’تاخیر کے ہر روز اٹک ریفائنری لمیٹڈ کو 75 لاکھ روپے جرمانے کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہے ہیں، حالانکہ اس تاخیر کے ہم ذمہ دار نہیں ہیں۔‘‘ اختلاف کے باوجود خٹک نے کہا کہ ریفائنریز پالیسی کی حمایت کرتی ہیں اور اپ گریڈیشن پروگرام میں رکاوٹ بننے والی مشکلات دور کرنے کے لیے وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک کی کوششوں کو سراہتی ہیں۔ پیٹرولیم ڈویژن نے جمعرات کو ریفائنریز کے ساتھ اپ گریڈیشن معاہدوں کے مسودے شیئر کیے۔ دستاویزات کو حتمی شکل دینے سے قبل وزارتِ خزانہ، کنٹرولر آف اکاؤنٹس اور انٹر اسٹیٹ گیس سسٹمز کے ساتھ مزید مشاورت متوقع ہے۔ خٹک نے کہا، ’’جرمانے کے حوالے سے ہمارا احتجاج، یا آپ اسے جو بھی نام دیں، بدستور برقرار ہے کیونکہ یہ جرمانہ ہم پر غیر منصفانہ طور پر عائد کیا گیا ہے۔ تاہم، یہ ہمیں معاہدوں پر دستخط کرنے سے نہیں روکے گا۔‘‘ ریفائنریز کا مؤقف ہے کہ یہ جرمانہ سرمایہ کاری کے ماحول کو متاثر کرسکتا ہے، ایسے وقت میں جب پاکستان کو اپنے ریفائننگ شعبے کو جدید بنانے اور درآمدی پٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ خٹک نے اندازہ لگایا کہ مقامی ریفائنریز کی اپ گریڈیشن میں ہر سال کی تاخیر سے پاکستان کو زیادہ مقدار میں ایندھن کی درآمد اور اس سے متعلقہ زرمبادلہ کے اخراج کی صورت میں تقریباً 1.5 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی انرجی مارکیٹس میں حالیہ تعطل کے بعد انرجی سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے بھی جدید کاری زیادہ سے زیادہ اہم ہوتی جا رہی ہے۔ حکومت نے بھی مقامی ریفائنریز کی اسٹریٹجک اہمیت اور ملک کی انرجی سیکیورٹی میں ان کے اہم کردار کو تسلیم کر لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اٹک ریفائنری پہلے ہی فرنٹ اینڈ انجینئرنگ کا زیادہ تر کام مکمل کر چکی ہے، جبکہ اپ گریڈیشن کے لیے فنانسنگ کے حوالے سے بینکوں کے ساتھ بات چیت بھی شروع ہو چکی ہے۔