کراچی (بابر علی اعوان)اولاد نہ ہونے کا سماجی دباؤ خواتین میں سوڈوسائسیس کا سبب بن سکتا ہے، ماہرینِ امراضِ نسواں کے مطابق بعض خواتین میں حمل نہ ہونے کے باوجود خود کو حاملہ سمجھنے کی ایک طبی کیفیت پائی جاتی ہے جسے سوڈوسائسیس(Pseudocyesis) کہا جاتا ہے، عام زبان میں اسے False Pregnancy یعنی حمل نہ ہونے کے باوجود حمل کا یقین کہا جاتا ہے۔ سینئر گائناکالوجسٹ پروفیسر نصرت شاہ نے جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایسی کیفیت میں خاتون کو حمل کا پختہ یقین ہوسکتا ہے اور بعض اوقات جسمانی طور پر بھی حمل جیسی علامات محسوس ہوسکتی ہیں۔ اس کیفیت کے پیچھے نفسیاتی، جذباتی اور بعض صورتوں میں ہارمونل عوامل بھی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ پروفیسر نصرت شاہ کے مطابق اولاد کی شدید خواہش، طویل عرصے تک حمل نہ ٹھہرنا، خاندان یا سسرال کا دباؤ اور معاشرے کی جانب سے ’’اولاد کیوں نہیں ہورہی‘‘ جیسے سوالات خاتون کے لیے شدید ذہنی دباؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔ بعض خواتین شوہر کی دوسری شادی کے خدشے سمیت مختلف سماجی مسائل کے باعث بھی ذہنی اذیت میں مبتلا ہوسکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے معاملات میں خاتون کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے اس کی ذہنی کیفیت کو سمجھنے اور ضرورت پڑنے پر نفسیاتی معاونت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ماہرین کے مطابق سوڈوسائسیس حقیقی حمل نہیں ہوتا اور الٹراساؤنڈ کے ذریعے حمل کی موجودگی یا عدم موجودگی واضح کی جاسکتی ہے۔ تاہم اس کیفیت میں مبتلا خاتون کے لیے حمل کا احساس محض ’’بہانہ‘‘ قرار دینا بھی درست نہیں، کیونکہ اس کا یقین نفسیاتی طور پر حقیقی ہوسکتا ہے۔ ماہرین نے عوام پر زور دیا ہے کہ خواتین کو اولاد کے معاملے میں غیر ضروری سماجی دباؤ سے بچایا جائے اور بانجھ پن یا حمل میں تاخیر کو صرف خاتون کی ذمہ داری سمجھنے کے بجائے اسے ایک طبی مسئلے کے طور پر دیکھا جائے۔