• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ، سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی کی صورتحال تشویشناک، فائر الارم اور واٹر اسپرنکلر دستیاب نہیں

کراچی (بابر علی اعوان) سندھ کے سرکاری تدریسی اسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات کی صورتحال تشویشناک ہونے کا انکشاف ہوا ہے، آگ بجھانے کے 40آلات ناکارہ، جناح، سول، لیاری، این آئی سی ایچ سمیت بڑے اسپتالوں میں فائر الارم اور واٹر اسپرنکلر موجود نہیں، فائر ڈرلز نہیں ہوتیں۔ محکمہ صحت سندھ کی رپورٹ کے مطابق متعدد بڑے اسپتالوں میں فائر الارم اور واٹر اسپرنکلر دستیاب نہیں، کئی اداروں میں فائر سیفٹی ڈرلز باقاعدگی سے نہیں ہوتیں جبکہ بعض اسپتالوں میں بجلی کا نظام مرمت طلب ہے، لیاری جنرل اسپتال میں صرف20آگ بجھانے والے آلات قابل استعمال۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کراچی میں موجود 135 فائر ایکسٹنگوشرز میں سے 40 غیر فعال قرار دیے گئے ہیں۔ محکمہ صحت سندھ نے 27 اگست 2026 کو ’’فائر سیفٹی میژرز اِن ٹیچنگ ہاسپٹلز/میڈیکل انسٹی ٹیوشنز‘‘ کے عنوان سے جاری سرکلر میں تمام ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کو ہدایت کی تھی کہ 29 اگست تک تمام اسپتالوں کا دورہ کرکے فائر ایکسٹنگوشرز اور متعلقہ آلات سمیت تمام حفاظتی اقدامات اپ ڈیٹ اور نصب ہونے کو یقینی بنایا جائے اور تعمیلی رپورٹ محکمہ صحت کو فراہم کی جائے۔ سرکلر میں معاملے کو ’’موسٹ امپورٹنٹ‘‘ اور ’’ٹاپ پرائیوریٹی‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ محکمہ صحت کی مرتب کردہ 22 تدریسی اسپتالوں و طبی اداروں کی رپورٹ میں مختلف اداروں میں فائر فائٹنگ سسٹم، فائر ایکسٹنگوشرز، سیف ایگزٹس، فائر الارم، فائر سیفٹی ڈرلز اور بجلی کی وائرنگ کی صورتحال درج کی گئی ہے۔ رپورٹ میں سامنے آنے والی صورتحال کے مطابق بعض بڑے اسپتالوں میں بنیادی فائر سیفٹی نظام تو موجود ہے مگر آگ کی بروقت اطلاع دینے والے فائر الارم اور خودکار طور پر آگ بجھانے والے واٹر اسپرنکلر دستیاب نہیں۔ رپورٹ کے مطابق جناح اسپتال میں 208 فائر ایکسٹنگوشرز فعال ہیں تاہم فائر الارم اور واٹر اسپرنکلر دستیاب نہیں جبکہ بجلی کا نظام مرمت طلب ہے۔ سول اسپتال کراچی میں 180 ایکسٹنگوشرز فعال ہیں لیکن یہاں بھی فائر الارم اور واٹر اسپرنکلر موجود نہیں اور بجلی کی وائرنگ کو مرمت کی ضرورت ہے۔ لیاری جنرل اسپتال میں 700 بستروں کے مقابلے میں صرف 20 فائر ایکسٹنگوشرز فعال ہیں، ایک فائر الارم موجود ہے مگر واٹر اسپرنکلر نہیں جبکہ فائر ڈرلز باقاعدگی سے نہیں ہوتیں۔ لیاقت یونیورسٹی اسپتال جامشورو میں 750 بستروں کے لیے صرف 32 فائر ایکسٹنگوشرز درج ہیں اور فائر الارم و واٹر اسپرنکلر دستیاب نہیں، جبکہ غلام محمد مہر میڈیکل کالج اسپتال سکھر میں 20 ایکسٹنگوشرز فعال ہیں مگر فائر الارم و اسپرنکلر موجود نہیں اور فائر ڈرلز بھی باقاعدگی سے نہیں ہوتیں۔

اہم خبریں سے مزید