• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تاریخی دہلی اسکول کے ہزاروں طلبا کے مستقبل پر سوالیہ نشان

کراچی (سید محمد عسکری)تاریخی دہلی اسکول کی عمارت سیل، ہزاروں طلبا تعلیم سے محروم،مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا۔محکمہ تعلیم اور سندھ حکومت کی سنگین غفلت،19 برس میں بھی تاریخی اسکول کی عمارت حاصل نہ کی جاسکی۔ دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ متعلقہ محکمے طویل عرصے تک مؤثر قانونی اور انتظامی اقدامات کی بجائے محض خط و کتابت تک محدود رہے۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ تعلیم سندھ اور صوبائی حکومت کی سنگین غفلت کے باعث کراچی کے تاریخی دہلی گورنمنٹ اسکول کی عمارت کو تقریباً 19 سال گزرنے کے باوجود حاصل نہیں کیا جاسکا، جس کے نتیجے میں عدالتی حکم پر اسکول بند ہونے سے ہزاروں طلبہ تعلیم سے محروم ہوگئے ہیں، جبکہ سرکاری ریکارڈ سے انکشاف ہوا ہے کہ متعلقہ محکمے طویل عرصے تک مؤثر قانونی اور انتظامی اقدامات کرنے کی بجائے محض خط و کتابت تک محدود رہے۔ محکمہ تعلیم کی دستاویزات کے مطابق کریم آباد، فیڈرل بی ایریا میں قائم دہلی گورنمنٹ پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کی اراضی حاصل کرنے کے لئے 27 اگست 2007ء کو لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894ء کی دفعہ 4 کے تحت نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، تاہم سندھ حکومت تقریباً دو دہائیوں میں حصولِ اراضی کی کارروائی مکمل نہیں کرسکی۔ دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ دہلی اینگلو عربک ایسوسی ایشن نے عدم ادائیگی کرایہ اور عمارت کا قبضہ واپس لینے کے لئے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ عدالت نے 30 اکتوبر 2000ء کو ایسوسی ایشن کے حق میں فیصلہ دیا، جس کے خلاف سندھ حکومت کی اپیل 20 جنوری 2004ء کو مسترد ہوئی، جبکہ سپریم کورٹ نے بھی 19 دسمبر 2006ء کو صوبائی حکومت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اپیل کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔ بعدازاں ایسوسی ایشن کی درخواست پر 9 مارچ 2004ء کو عدالتی ناظر کو عمارت کا قبضہ ایسوسی ایشن کے حوالے کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اس صورتحال کے بعد ضلعی حکومت نے 2007ء میں اراضی حاصل کرنے کی کارروائی شروع کی، مگر ایسوسی ایشن کی آئینی درخواست پر سندھ ہائی کورٹ نے 26 ستمبر 2007ء کو مزید کارروائی روک دی تھی۔ ریکارڈ کے مطابق یہ آئینی درخواست 17 مارچ 2025ء کو مسترد ہوگئی اور حصولِ اراضی کی کارروائی میں قانونی رکاوٹ ختم ہوگئی، اس کے باوجود محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر دفعہ 6 کے تحت کارروائی مکمل کرکے اسکول کی عمارت صوبائی حکومت کے نام منتقل نہیں کرائی۔ ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن کراچی نے 7 اپریل 2025ء کو ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی کو خط لکھ کر حصولِ اراضی کی کارروائی آگے بڑھانے کی درخواست کی تھی، مگر ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود معاملہ زیر التوا رہا۔ سرکاری خط میں واضح طور پر تسلیم کیا گیا کہ ڈپٹی کمشنر کو بھیجی گئی درخواست پر مزید کارروائی نہیں کی گئی۔ محکمہ تعلیم نے 23 جولائی 2026ء اور اس کے بعد بھی خطوط لکھے، جبکہ ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن نے سیکریٹری تعلیم سے عدالتی عمل درآمد کے خلاف آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت نئی آئینی درخواست دائر کرنے اور حصولِ اراضی کا عمل تیز کرنے کی منظوری مانگی، مگر یہ اقدامات بھی اسکول کو بند ہونے سے نہ بچا سکے۔

اہم خبریں سے مزید