ملتان (سٹاف رپورٹر)محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی میں ”دریائے سندھ میں غذائی تحفظ کے لیے پانی“ کے موضوع پر سیمینار منعقد ہوا، جس میں تعلیمی اداروں، حکومتی محکموں، ترقیاتی تنظیموں اور تحقیقی اداروں سے وابستہ ماہرین نے شرکت کی۔ سیمینار میں پانی کے تحفظ، زرعی پیداوار میں پائیداری، آبپاشی کے مؤثر انتظام، موسمیاتی تبدیلی اور غذائی تحفظ سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے کی۔ ماہرین نے اس امر پر زور دیا کہ پانی کے استعمال میں کفایت، جدید آبپاشی نظام اور چھوٹے کاشتکاروں کے لیے مؤثر اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ مقررین نے کہا کہ دریائے سندھ میں پانی کی دستیابی اور اس کے مناسب استعمال کو یقینی بنائے بغیر پاکستان میں پائیدار زرعی ترقی اور غذائی تحفظ کا حصول ممکن نہیں۔ڈاکٹر بخشل لاشاری نے گزشتہ 30 برس کے دوران زرعی پیداوار اور پانی کی کمی کے رجحانات پر روشنی ڈالتے ہوئے دریائے سندھ کے بدلتے ہوئے حالات کے باعث درپیش چیلنجز کو اجاگر کیا۔ ڈاکٹر ابوبکر محمد نے کہا کہ کسانوں کو ہونے والے فوائد اور پانی کے منظم استعمال کے لیے ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد اشفاق نے آبپاشی کے جدید طریقوں اور پانی کے بہتر انتظام کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔سیمینار کے اختتام پر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے کہا کہ دریائے سندھ اور پانی کے تحفظ کو پاکستان کے غذائی مستقبل کے ساتھ جوڑ کر دیکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعلیمی اداروں، حکومتی محکموں، ترقیاتی تنظیموں، محققین، صنعت اور کاشتکاروں کے درمیان مضبوط اشتراک وقت کی اہم ضرورت ہے۔