• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نیب کے 179 میگا کرپشن کیسز، ایک دہائی بعد بدعنوانی کہاں ثابت ہوئی؟

انصار عباسی

اسلام آباد :…قومی احتساب بیورو کی جانب سے سپریم کورٹ کے سامنے 179؍ ’’میگا کرپشن کیسز‘‘ کی فہرست پیش کیے جانے کو دس سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، اور اب ان مقدمات کا انجام ایک پریشان کن سوال اٹھاتا ہے کہ کیا نیب واقعی میگا کرپشن کے مقدمات بنا رہا تھا یا بیورو نے خود بڑی تعداد میں مقدمات کی نوعیت اور ان کے شواہد کی مضبوطی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا؟ یہ سوال اس لیے مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ نیب کی جانب سے 179؍ کیسز کی آخری سرکاری حیثیت، جسے بیورو نے اپ ڈیٹ کیا تھا، ظاہر کرتی ہے کہ 179؍ میں سے 90؍ کیسز نمٹائے جا چکے ہیں، جبکہ 86؍ ریفرنسز اب بھی زیر سماعت ہیں اور 3 تحقیقات تاحال جاری ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار کیلئے نیب سے رابطہ کیا گیا، تاہم یہ معلومات دی نیوز کے ساتھ شیئر نہیں کی جا سکیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تازہ ترین اپ ڈیٹ کے بعد بھی بیورو ان کیسز کی نوعیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے الزام سے بری الذمہ نہیں ہو پائے گا۔ان تمام مقدمات کو نیب کی اُس وقت کی انتظامیہ نے میگا کرپشن کیسز قرار دیا تھا، اور یہ انتظامیہ اب بھی جوابدہ نہیں ہے۔ ’’میگا کرپشن‘‘ کیسز کی فہرست پہلی مرتبہ 2015ء میں عدالت کی ہدایت پر سپریم کورٹ میں پیش کی گئی تھی۔ اس وقت نیب نے 179؍ کیسز کو 81؍ انکوائریز، 52؍ تحقیقات اور ٹرائل کے مرحلے میں موجود 46؍ ریفرنسز میں تقسیم کیا تھا۔ نیب نے بعد ازاں اعلان کیا تھا کہ ان کیسز کو سب سے زیادہ ترجیح دی گئی ہے اور شفافیت اور میرٹ پر سمجھوتہ کیے بغیر انہیں تیزی سے حتمی شکل دی جائے گی۔ تاہم، تقریباً 10؍ سال گزرنے کے بعد بھی ریکارڈ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ میگا کرپشن کیسز بتائے گئے ان کیسز کی بھاری تعداد میں کسی کو سزائیں ملی ہوں۔ درحقیقت، 30؍ اپریل 2024 تک نیب کے مؤقف کی بنیاد پر 22؍ جون 2024ء کو دی نیوز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 179؍ کیسز میں سے صرف 10؍ میں سزائیں ہوئی تھیں، جبکہ تقریباً 19؍ کیسز بریت پر ختم ہوگئے تھے۔ اس وقت 87؍ ریفرنسز زیر سماعت تھے اور 85؍ مقدمات نمٹائے جاچکے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی کیس کا زیر سماعت ہونا اسے ثابت شدہ اور نہ ہی غلط ثابت شدہ قرار دینے کے مترادف ہے۔ تاہم جب کسی فہرست کو عوامی سطح پر ’’میگا کرپشن کیسز‘‘ پر مشتمل قرار دے کر پیش کیا جائے تو بالآخر عدالتی نتیجہ اس بات کا سب سے اہم پیمانہ بن جاتا ہے کہ آیا ابتدائی الزامات شواہد کی بنیاد پر عائد کیے گئے تھے یا نہیں۔ ریکارڈ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ قابلِ ذکر تعداد میں مقدمات ٹرائل کے مرحلے تک پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہوگئے۔ نیب کی اپنی سرکاری ویب سائٹ پر درج اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اصل 81؍ انکوائریز میں سے 45؍ کو تحقیقات میں تبدیل کیا گیا، 6؍ کے نتیجے میں رضاکارانہ ادائیگی ہوئی، جبکہ 30؍ کو بند، ضم یا دوسری جگہ منتقل کردیا گیا۔ مجموعی 97؍ تحقیقات میں، جن میں انکوائریز سے تبدیل ہونے والی تحقیقات بھی شامل تھیں، 73؍ ریفرنسز دائر کیے گئے، 4؍ کے نتیجے میں پلی بارگین ہوئی جبکہ 17؍ کیسز بند کردیئے گئے۔ فہرست میں شامل سیاسی نوعیت کے کیسز اس حوالے سے کچھ نمایاں مثالیں پیش کرتے ہیں۔ ان کیسز میں کئی بڑے سیاسی نام شامل تھے، لیکن ان میں سے شاید ہی کسی کو سزا ہوئی ہو۔ ان میں سے بیشتر یا تو بری ہوگئے یا ان کے کیسز بند کردیئے گئے۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ الزامات جو اتنے سنگین تھے کہ انہیں ’’میگا کرپشن کیسز‘‘ کی فہرست کا حصہ بنا کر سپریم کورٹ کے سامنے پیش کیا گیا، بعد ازاں وہ کس طرح بند ہوئے یا بریت پر منتج ہوئے؟ یہ سوال اس وقت مزید اہم ہوجاتا ہے جب بعض کیسز کے ساتھ منسلک مالی اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے۔ ایک ذریعے نے کہا کہ اگر ’میگا کرپشن قرار دیے گئے الزامات تقریباً 10؍ سال گزرنے کے بعد بھی سزاؤں میں تبدیل نہیں ہوسکتے، جبکہ بڑی تعداد میں کیسز بند ہوجائیں یا بریت پر ختم ہوں، تو ابتدائی درجہ بندی کی ساکھ کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ذریعے نے مزید کہا کہ اصل سوال صرف یہ نہیں کہ 179؍ کیسز میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ آیا نیب نے 2015ء میں سپریم کورٹ کے سامنے 179؍ واقعی ثابت شدہ میگا کرپشن کیسز پیش کیے تھے یا الزامات، انکوائریز، تحقیقات اور ریفرنسز کے ایک مجموعے کو اس انداز میں پیش کیا کہ یہ پہلے ہی طے شدہ میگا اسکینڈلز تھے۔ ذرائع نے کہا کہ محض نیب کی فہرست میں شامل کردیے جانے سے کوئی کیس کرپشن نہیں بن جاتا۔ بالآخر کرپشن کو شواہد کے ذریعے ثابت کرنا ہوتا ہے اور جہاں اختلاف ہو وہاں عدالتی فیصلے کے ذریعے اسے ثابت کیا جانا ضروری ہے۔ ان ذرائع میں سے ایک نے کہا کہ تقریباً 10؍ سال گزرنے کے بعد 179؍ کیسز کا ریکارڈ پارلیمنٹ، عدلیہ اور خود نیب کیلئے اس بات کا جائزہ لینے کیلئے کافی وجوہات فراہم کرتا ہے کہ ان کیسز کا انتخاب کس بنیاد پر کیا گیا، جب انہیں ’’میگا‘‘ قرار دیا گیا تو اس وقت کیا شواہد موجود تھے، ان سے حقیقتاً کتنی رقم وصول کی گئی اور اتنے زیادہ کیسز سزاؤں پر منتج ہونے میں کیوں ناکام رہے۔

اہم خبریں سے مزید