کراچی (محمد منصف) سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عدنان میمن نے کہا ہے کہ تفتیش میں براہ راست مداخلت کرنا عدالتی دائرہ اختیار کے اصولوں کے خلاف ہوگا ، میر رضا علی خان کے اہلخانہ سے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہیں ، اہلخانہ سے ہمدردی ہے اور عدالت ان کے کرب اور نقصان سے پوری طرح آگاہ ہے تاہم ہمدردانہ جذبات قانون کے طے شدہ تقاضوں پر غالب نہیں آسکتے۔جے آئی ٹی بنانے کی درخواست نمٹاتے ہوئے تفتیشی افسر کو قانون کے مطابق تفتیش جاری رکھنے کی ہدایت کردی۔ تفصیلات کے مطابق تحریری حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے میر رضا کی موت کے معاملے میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کی درخواست نمٹادی ہے اور حکم دیا ہے کہ تفتیشی افسر قانون کے مطابق غیر جانبدارانہ، شفاف، مؤثر اور جلد تحقیقات مکمل کریں۔ تحریری حکمنامے میں عدالت نے کہا ہے کہ براہِ راست مداخلت کرنا عدالتی دائرہ اختیار کے اصولوں کے خلاف ہوگا۔ درخواست میر رضا علی خان کے والدین اور بہن کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ میر رضا کی موت کے معاملے کی پولیس تفتیش پر اہلخانہ کو اعتماد نہیں رہا۔ اس لئے عدالت اپنے آئینی اختیار کے تحت جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دے۔ حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ کیس کے تفتیشی افسر نے تحقیقات مکمل کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ تمام دستیاب وسائل استعمال کرے گا اور ضرورت پڑنے پر دیگر قانون نافذ کرنے والے اور تحقیقاتی اداروں سے بھی معاونت لی جائے گی۔