کراچی (اسٹاف رپورٹر)پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس اور آئی پی پیز کے خلاف جماعت اسلامی کا گورنر ہاؤس پر دھرنا 18ویں دن بھی جاری رہا، دھرنا گاہ میں منعقدہ وکلاء کنونشن میں سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور کراچی بار ایسوسی ایشن نے جماعت اسلامی کی جدو جہد اور ہڑتال سے اظہار یکجہتی کے لئے 3ستمبر کو عدالتوں میں بھی علامتی ہڑتال کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وکلاء دوپہر میں ریلی کی صورت میں گورنر ہاؤس پہنچیں گے۔ امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے گورنر ہاؤس کے باہر جاری دھرنے کے 18ویں روز وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہمیں خوشی ہے کہ پوری وکلاء برادری نے پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس کیخلاف جماعت اسلامی کی تحریک کا ساتھ دیا، پیٹرولیم لیوی بھتہ ٹیکس اور حکمرانوں کی شاہ خرچیاں کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتیں، صرف گزشتہ سال حکومت نے 1566 ارب روپے پیٹرولیم لیوی کے نام پر وصول کئے جبکہ امسال8ہزار ارب روپے لیوی کے نام پر وصول کئے جاچکے ہیں، فوڈ سپلائی کرنے والا، موٹر سائیکل چلانے والا فی لیٹر پیٹرول میں 130روپے ادا کررہا ہے،حکومت نے عوام کے لئے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل بنادیا ہے۔ ایک عام آدمی کے لئے جینا مشکل کردیا گیا ہے۔ 25 کروڑ آبادی میں سے 11 کروڑ عوام خط غربت سے نیچے گزاررہے ہیں، بنیادی تنخواہ سرکار نے 43ہزار مقرر کی ہے،حکومت و ریاست 43 ہزار روپے میں کسی بھی گھر کا ماہانہ بجٹ بنا کر دکھائے۔گزشتہ 18 دن سے پیٹرولیم لیوی بھتہ ٹیکس کے خلاف گورنر ہاؤس سندھ سمیت ملک کے دیگر گورنر ہاوسز اور پنجاب میں وزیر اعلٰی ہاؤس کے باہر دھرنے جاری ہیں۔وکلاء کنونشن سے اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ،صدر سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن حسیب جمالی،کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر عامر نواز وڑائچ، کراچی بار ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری ارشد،اسلامک لائرز موومنٹ کراچی کے صدر فرخ عثمان ایڈوکیٹ و دیگر وکلاء نے بھی خطاب کیا۔ سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ کالی ٹائی اور کالے کوٹ سے بڑی امید ہے کہ وہ ملک کے لئے کچھ کریں گے،ہمیں امید ہے کہ وکلاء برادری جماعت اسلامی کی عوامی جدو جہد کا ہر اول دستہ بنے گی۔ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر حسیب جمالی نے کہا کہ جماعت اسلامی،ول فورم، اسلامک لائرز فورم کا شکر گزار ہوں جنہوں نے وکلاء کا تاریخی کنونشن منعقد کیا، سندھ بار ایسوسی ایشن جماعت اسلامی کی عوامی جدو جہد میں اس کے ساتھ ہے، ظالمانہ ٹیکس کی وجہ سے سول نافرمانی بھی ہوسکتی ہے، گورنر ہمارے نمائندے ہیں وہ وفاق کو بتائیں کہ کراچی سمیت سندھ کے عوام نے لیوی ٹیکس مسترد کردیا۔