مصنّف: ڈاکٹر صلاح الدّین حیدر
صفحات : 120، قیمت: 600 روپے
ناشر: گردو پیش پبلی کیشنز، ملتان۔
فون نمبر: 6780423 - 0318
زیرِ نظر کتاب کے مصنّف ایک ترقّی پسند دانش وَر کی حیثیت سے نمایاں شناخت رکھتے ہیں۔ اُنہوں نے ادب کی مختلف جہتوں پر بہت مختلف نوعیت کا کام کیا ہے۔ ماہرِ تعلیم، محقّق، مترجّم اور سفرنامہ نگار جیسے لاحقوں نےاُنہیں ہمہ جہات و ہمہ صفات بنا دیا ہے۔
ڈاکٹر صلاح الدّین حیدر نے زیرِ نظر کتاب میں الیگزینڈر پُشکن، نکولائی گوگول، فیودردستوویسکی، نکولائی چرنیشے ویسکی، لیوتالستائی اور ایوان ترگنیف کے فن اور شخصیت پر مضامین کے علاوہ، رودین اور باپ، بیٹے کا خصوصی مطالعہ بھی پیش کیا ہے۔
ممتاز کالم نگار اور دانش وَر، وجاہت مسعود نے تحریر کیا ہے کہ ’’ادب مشترکہ انسانی میراث ہے، یہ کسی نظریے یا سرحد کا پابند نہیں۔ استاد الآساتذہ ڈاکٹر صلاح الدّین حیدر کی سیاسی بصیرت میں کوئی کلام ہے اور نہ اُن کی ادبی ژرف نگاہی، مجھ ایسے طالبِ علم کے تعارفی جملوں کی محتاج ہے۔
استادِ محترم کے اپنے مسوّدات کے معدن سے چند تعارفی اور تجزیاتی تحریریں برآمد کر کے، پڑھنے والوں کی نذر کرنے کا جو فیصل کہ کیا ہے، اُس پرآئندہ نسلیں، اُن کی شُکر گزار رہیں گی۔‘‘ نیز، کتاب میں ’’استیپ کی گھاس پر گرتے برف کے گالے‘‘ کے عنوان سے رضی الدّین رضی کا ایک مضمون بھی شامل ہے۔