مصنّفہ: فرحت پروین ملک
صفحات : 264، قیمت: 1000 روپے
ناشر: ہارون پبلی کیشنز، بلال ٹاؤن، نارتھ کراچی،کراچی
فون نمبر: 2243868 - 0332
زیرِنظر کتاب کی خالق اُردو کے ممتاز و معتبر ادیب اور نقّاد، پروفیسر نظیر صدیقی (مرحوم) کی اہلیہ ہیں، جو اُن کی قائم کردہ روایات زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ فرحت پروین ملک کا شمار اُن خواتین قلم کاروں میں ہوتا ہے، جنہوں نے ادب کواپنا نصب العین بنا رکھا ہے۔ یہ فرحت پروین کی چوتھی کتاب ہے۔ ’’دربارِ ادب‘‘ اُن کی پہلی کتاب تھی، جو2010 ء میں شائع ہوئی، دوسری کتاب ’’حرفِ تازہ‘‘ 2015ء میں منظرِعام پر آئی، جسے پروفیسر نظیر صدیقی کی یادوں سے منسوب کیا گیا تھا۔
اُن کی تیسری کتاب ’’یادوں کا سندربن‘‘ 2022ء میں شائع ہوئی، جس نے غیر معمولی پذیرائی حاصل کی۔ اور اب زیرِنظرکتاب تین ابواب پرمشتمل ہے۔ بابِ اوّل ’’باقیاتِ فرحت پروین‘‘ پر مبنی ہے، جس کے چار ذیلی حصّے خاکوں، افسانوں، مضامین اور تبصروں پر مشتمل ہیں۔
بابِ دوم ’’اہل قلم کی آراء‘‘ ہے، جس میں اُن کی کتابوں پر لکھے گئےمضامین اورتبصرے یک جا کیےگئےہیں۔ بابِ سوم ’’خطوط‘‘ ہے، اس میں اہلِ قلم کےخطوط یا اُن کے اقتباسات شامل ہیں۔ پیشِ لفظ ’’فرحت پروین ملک کا خوابستان‘‘ کے عنوان سے پروفیسر زاہد رشید نے تحریر کیا ہے، جو کتاب کے پبلشر بھی ہیں۔ فلیپ پرڈاکٹر انور سدید، پروفیسر ہارون الرشید اور اےخیام کے مضامین کے اقتباسات دیئےگئے ہیں، جو اُنہوں نے فرحت پروین ملک سے متعلق تحریر کیے تھے۔