کسی بھی مُلک کی معیشت میں بینکاری کا نظام بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، کیوں کہ کاروبار سے لےکر ملازمت تک کے لیے بینک اکاؤنٹ ایک بنیادی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ یہ مالیاتی ادارے قرض کی شکل میں اپنے صارفین، کمپنیز، چھوٹے کاروباروں اور زراعت کے لیے بھی رقوم فراہم کرتے ہیں۔
اگر بینکنگ کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے، تو پتا چلتا ہے کہ بینکاری کا آغاز 15ویں صدی میں ہوا اورچوں کہ ابتدا میں لوگ دریا کے کنارے بیٹھ کر مالی لین دین کیا کرتے تھے اور انگریزی میں دریا کے کنارے کو ’’بینک‘‘ کہا جاتا ہے، تووقت گزرنے کے ساتھ مالی لین دین کو ’’بینک‘‘ کہا جانے لگا۔ تاہم، 16ویں اور 17ویں صدی میں ان بینکس نے باقاعدہ اداروں کی شکل اختیار کرلی، جب کہ 18ویں صدی کے آخر میں یہ صنعت کا رُوپ اختیار کرنے لگے۔
برِعظیم میں بینکاری کا آغاز 1850ء میں ہوااور20ویں صدی کے آغاز تک اس خطے میں کئی نجی بینکس قائم ہو چُکے تھے۔ برِعظیم کا پہلا بڑا سرکاری بینک، ’’سینٹرل ریزرو بینک‘‘ اور دوسرا ’’امپریل بینک آف انڈیا‘‘ تھا۔ مالیات میں مسلمانوں کی عدم دل چسپی کےسبب اس کاروبار میں ہندوؤں کی اجارہ داری تھی۔
قیامِ پاکستان سے قبل ہندوستان میں قائم مختلف بینکس کی 3497 شاخوں میں سے 13کی 631شاخیں مسلم اکثریتی علاقوں میں قائم تھیں اور ممبئی اور کلکتہ (موجودہ کول کتہ) کی طرح کراچی کا شمار بھی بینکاری کے اعتبار سے بڑے شہروں میں ہوتا تھا۔ یہاں بمبئی بینک، روپالی بینک، جوبلی بینک، سونابینک، روپیا بینک، بینک آف ڈھاکا اور بینک آف لندن کے نام سے مختلف بینکس قائم تھے۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ہی ہندو مالکان نے پاکستانی حدود سے اپنے بینکس کی شاخیں اور عملے کی منتقلی شروع کر دی۔
نتیجتاً، نوزائیدہ ریاست میں صرف 195شاخیں باقی رہ گئیں، جن میں 126مشرقی اور 69مغربی پاکستان میں تھیں۔ قیامِ پاکستان کے وقت لاہور میں خواجہ بشیر بخش کا ’’آسٹریلشیا بینک‘‘ فعال تھا۔ اسے 3دسمبر 1942ء کو ایک لاکھ 20ہزار روپے کے ابتدائی سرمائےسےقائم کیا گیا تھا، لیکن اس کی شاخیں اور وسائل محدود تھے، جب کہ حبیب بینک، جسے1941ءمیں بمبئی سےتعلق رکھنے والے محمد علی حبیب نے قائم کیا تھا، پورے برِعظیم میں کسی مسلمان کی زیرِ ملکیت سب سے پہلا بینک تھا۔
اس بینک نے جلد ہی دہلی، کلکتہ، لاہور اور دیگر شہروں میں شاخیں قائم کیں اور تحریکِ پاکستان کے دوران آل انڈیا مسلم لیگ کے لیے خدمات انجام دیں۔7 اگست1947ء کو حبیب بینک رجسٹرڈ آفس بمبئی سے کراچی منتقل ہوگیا۔ ’’مسلم کمرشل بینک‘‘ مسلمان مالکان کا تیسرا بینک ہے، جس کی رجسٹریشن 9 جولائی 1947ء کو کلکتہ میں ہوئی۔ یہ بینک قائدِاعظمؒ کی خواہش پر ابوالحسن اصفہانی کے تعاون اور3کروڑ روپے کے ابتدائی سرمائے سے سر آدم جی داؤد کی سربراہی میں قائم کیا گیاتھا۔ 10اگست 1947ء کواس کا ہیڈ آفس پہلے کراچی اور پھر17اگست1948ء کوڈھاکا منتقل ہوگیا تھا لیکن 23اگست1956ء کو مرکزی دفتر دوبارہ کراچی منتقل کردیا گیا۔
آزادی کے دس ماہ بعد یکم جولائی 1948ء کو قائدِ اعظمؒ نے پاکستان کے پہلے دارالحکومت، کراچی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا اپنے دستِ مبارک سے افتتاح کیا اور زاہد حسین پہلے گورنراسٹیٹ بینک مقرر ہوئے۔ 9نومبر 1949ء کو ایک خصوصی آرڈیننس کے تحت 6کروڑ روپے کے سرمائے سے نیشنل بینک قائم کیا گیا۔
بعدازاں اسٹیٹ بینک کی جانب سے نجی بینکاری کی حوصلہ افزائی سے 50کی دہائی میں مزید نئے بینکس قائم ہوئے، جن میں ریاست بہاول پورکا بینک آف بہاول پور، اسٹینڈرڈ بینک، خیبر بینک، چلتن بینک اورسوباربینک آف ڈھاکا شامل ہیں۔ 7نومبر 1959ء کو آغا حسن عابدی نے سہگل گروپ کی مدد سے ’’یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ‘‘ قائم کیا۔1963ء میں کامرس بینک، اسٹینڈرڈ بینک اور پریمیئر بینک کا اضافہ ہونے کے بعد شیڈولڈ بینکس کی تعداد 9ہوگئی۔ 1965ء میں یونائیٹڈ بینک نے ذیلی ادارے کے طور پر یونین بینک اور1970ء میں اجمل خلیل مرحوم نے سرحد بینک قائم کیا اور یوں مُلک میں 1970ء تک شیڈولڈ بینکس کی تعداد 14اور شاخوں کی تعداد3133ہوگئی۔ 1958ء سے 1968ء کے درمیانی عرصے میں بینکس کی شاخوں میں تیزی سے اضافہ ہوا اور ڈیپازٹس کی مجموعی رقم 10ارب 33 کروڑ 50 لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔
تب نجی سیکٹر کے زیرِانتظام بینکاری نظام کی کارکردگی ایشیا میں جاپان کے بعد دوسرے نمبر پر تصوّر کی جاتی تھی، لیکن عوام کو اس کے ثمرات اس تناسب سے نہیں مل رہے تھے۔ کریڈٹ انکوائری کمیشن 1959ء اور 1962ء کی رپورٹ کے مطابق تجارتی بینکوں کے مجموعی قرضوں کا تقریباً دو تہائی حصّہ صرف 222کھاتے داروں کے زیرِ تصرّف تھا اور ان کھاتے داروں میں دولت مند اور 22 کاروباری خاندان شامل تھے، جنہوں نے 10لاکھ سے 50لاکھ روپے تک کے قرضے لے رکھے تھے، جب کہ 25 ہزار روپے قرض لینے والوں کا تناسب صرف 5.6 فی صد تھا۔
یعنی نجی ملکیت میں قائم بینکس پاکستانی معیشت کواستحکام دینے والی صنعتوں کی مناسب انداز میں مدد نہیں کررہے تھے اور اسی وجہ سے حکومت نے پی آئی ڈی سی کی بنیاد رکھی۔ بعض ماہرین کی رائے کے مطابق 1949ء سے 1968ء تک بینکاری کا فروغ وقتی اور ناہم وار تھا۔ پالیسی نجی اداروں کی ضروریات کو پیشِ نظر رکھ کر وضع کی گئی تھی اور قومی ترجیحات سے صرفِ نظر کیا جا رہا تھا، جس کی مثال زرعی شعبہ اور کسان تھے۔ علاوہ ازیں، بینک ملازمین کی اپنی مالی صورتِ حال بھی بہترنہیں تھی۔
وہ مالی آسودگی سے محروم تھے اور اُن کا مستقبل غیرمحفوظ تھا۔ 15جون 1964ء کو قومی اسمبلی میں ڈاکٹر محبوب الحق نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے بتایا کہ ’’مُلک بَھر کی دولت صرف 22 خاندانوں کے پاس جمع ہے، جو صنعتوں، بینکس اور بیمہ کمپنیز کا جال بچھائے ہوئے ہیں۔ حکومت کوکم سرمایہ رکھنے والوں کی امداد کرنی چاہیے۔
بونس واؤچراسکیم کی وجہ سے تاجروں اور صنعت کاروں کو بیرونِ مُلک اپنی دولت جمع کرنے کا موقع ملا ہے۔‘‘ 1960ء کی دہائی کے آخر میں مُلک میں دوبارہ سیاسی سرگرمیاں شروع ہوئیں، تو مالی تفریق کم کرنے کے لیے بڑی سیاسی جماعتیں اس رائے پر متفق تھیں کہ وسائل پرچند خاندان کے قابض ہونے کے سبب ترقّی کے ثمرات سے عوام محروم ہیں، لہٰذا برسرِاقتدار آنے کی صُورت بڑے صنعتی و مالیاتی ادارے قومیائے جانے کا وعدہ کیا گیا۔
دسمبر 1970ء کے انتخابات میں ایسے وعدے کرنے والی سیاسی جماعتوں، عوامی لیگ اور پیپلز پارٹی کو اکثریت ملی لیکن بدقسمتی سے پُرامن انتقالِ اقتدار ہونے کی بجائے دسمبر 1971ء میں پاکستانی تاریخ کا ناقابلِ تلافی سانحہ ’’سقوطِ ڈھاکا‘‘ ہوگیا۔
1970ء کی دہائی کے آغاز پر پاکستان کی مجموعی صورتِ حال سنگین اور اکثر شیڈولڈ بینکس کی مالی حالت خراب تھی۔ وزیرِ اعظم ذوالفقارعلی بُھٹّو کےزیرِ قیادت منتخب حکومت نے 1972ء میں بینکنگ اصلاحات کا اعلان کیا، جس میں بینکس کا استحکام اور کارکردگی میں بہتری، قرضوں کی منصفانہ اور بامقصد تقسیم اور بینکاری نظام میں معاشرتی ذمّےداریوں کے احساس کی افزائش شامل تھی۔ 31دسمبر 1973ء کو پاکستان میں نجی بینکاری کا خاتمہ کردیا گیا اور یکم جنوری 1974ء سے بینکنگ کے ایک نئے دَور کا آغاز ہوا، جس میں تمام پاکستانی تجارتی بینکس بشمول انڈسٹریل بینک آف پاکستان، زرعی ترقیاتی بینک اور قرض دینے والے دیگر ادارے قومیا لیے گئے۔
مارچ 1974 ء میں ’’بینکس نیشنلائزیشن ایکٹ آف1974ء‘‘ کے تحت چھوٹے بڑے14 شیڈولڈ بینکس کو پانچ بڑے مستحکم بینکس میں ضم کردیا گیا اور سرکاری بینکس کا انتظام و انصرام چلانے کے لیے ’’پاکستان بینکنگ کاؤنسل‘‘ کا قیام میں عمل میں لایا گیا۔ قومی ملکیت میں آنے سے پاکستانی بینکاری کی تنظیم اور کارکردگی میں انقلابی تبدیلی دیکھنے میں آئی۔
اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 31دسمبر 1973ء کو پاکستانی بینکس کی شاخوں کی تعداد3442، ڈیپازٹس کا حجم 23.3 بلین روپے اور ٹیکس سے قبل منافع 260.7ملین روپے، جب کہ 1983ء میں بینکس کی شاخوں کی تعداد بڑھ کر 7012، ڈیپازٹس کا حجم 159.7بلین روپے اور ٹیکس سے قبل منافع 1.27بلین روپے پر پہنچ گیا۔
بینکس کو قومیانے کے نتیجے میں بڑی رقوم حکومت کے تصرّف میں آگئیں، جنہیں قومی ترجیحات پر خرچ کیا گیا۔ چھوٹے کاشت کاروں کو قرضے اور قومیائے جانے والی صنعتوں کو اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے رقوم فراہم کی گئیں۔ علاوہ ازیں، اُس دَور میں عوامی سہولت کے لیے بینکس کئی خدمات بِلامعاوضہ انجام دیتے تھے، جن میں یوٹیلٹی بلز اور سرکاری واجبات کی ادائی وغیرہ شامل ہے، کیوں کہ بینکاری نظام کی نیشنلائزیشن کا مقصد محض منافع کا حصول نہیں بلکہ عوام کو ترقّی کی دوڑ میں شامل کرنا بھی تھا۔
اس مقصد کے تحت پانچ ہزار افراد پر مشتمل ہر قصبے اور دیہی علاقے میں بینکس کی نئی شاخیں قائم کی گئیں۔ نتیجتاً، شہریوں کوملازمت کےہزاروں نئے مواقع میسّر آئے، بینک اسٹاف میں اضافہ ہوا اور بینک ملازمین کے مالی تحفّظ کے لیے ویج کمیشن کے قیام اور انہیں مراعات فراہم کرنے سے خوش حال درمیانی طبقہ وجود میں آیا، جب کہ یہ قومی بینکس ٹیکس کے ساتھ حکومت کو قرضے بھی فراہم کررہے تھے۔ تاہم، 1980ء کی دہائی کے وسط میں بینکاری کے پیشہ ورانہ اصولوں کو پسِ پشت ڈالنےکی وجہ سے بینکنگ سیکٹر میں بگاڑ پیدا ہونا شروع ہوگیا۔
تب منافع بخش قومی بینکس پر نوکر شاہی کا مکمل کنٹرول تھا اور ملی بھگت سے اربوں روپے کے قرضے بانٹے اور معاف کیے گئے، جس کی وجہ سے بینکس کی کارکردگی پر سوالات اُٹھنے لگے۔ نتیجتاً، 21ستمبر 1988ء کو وزیرِ خزانہ، ڈاکٹر محبوب الحق نے ایک بار پھر نجی بینکس کے قیام کی منظوری دی اور پھر جب پاکستان نے دسمبر 1988ء میں آئی ایم ایف سے ’’اسٹرکچر لا ایڈجسٹمنٹ پروگرام‘‘ کے تحت قرضے لینا شروع کیے، تو معاشی سدھار کے نام پر آزاد معیشت اور نج کاری کی ذکر بھی شروع ہوگیا۔
یکم دسمبر 1989ء کو اُس وقت کی وزیرِاعظم، محترمہ بے نظیر بُھٹّو کی زیرِ قیادت حکومت میں ’’فرسٹ ویمن بینک‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔ مذکورہ بینک پبلک سیکٹر میں قائم کیا گیا اور اس مقصد کے لیے پانچ بڑے قومی بینکس اور وزارت انسانی ترقّی پر مشتمل ایک کنسورشیم عمل میں آیا۔
ان اداروں نے بینک کو ابتدائی طور پر100ملین روپے کا سرمایہ فراہم کیا، جب کہ 15نومبر 1989ء کو اُس وقت کے وزیرِاعلیٰ پنجاب، میاں نواز شریف کی سربراہی میں پنجاب کے پہلے کمرشل بینک، ’’پنجاب بینک‘‘ کا افتتاح کیا گیا اور 1990ء میں میاں نواز شریف کے پہلی مرتبہ وزیرِاعظم بنتے ہی پاکستان میں دوبارہ نجی شعبے کے زیرِ انتظام بینکاری کا آغاز ہوا۔ 4 دسمبر 1990ء کو وزیرِاعظم، میاں نوازشریف کے زیرِصدارت اجلاس میں کابینہ نے نجی شعبے کے تحت کمرشل بینکس کے قیام کی منظوری دی۔ 9جنوری 1991ء کو وفاقی کابینہ نے قومیائے گئے کمرشل بینکس کا انتـظام نجی شعبے کو منتقل کرنے کے ایکٹ مجریہ 1974ء میں ترمیم کی تجویز کی منظوری دی۔ 22 جنوری1991ء کو تین رُکنی نج کاری کمیشن قائم کیا گیا، جس کے پہلے چیئرمین سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) سعید قادر اورارکان الٰہی بخش سومرو، شہزادہ محی الدین اور دیگر تین سرکاری افسران مقرر ہوئے۔ کمیشن کا مقصد غیر منافع بخش اداروں کو نجی شعبے کے حوالے کرنا تھا۔
درحقیقت، 1991ء پاکستان میں بینکاری کے تیسرے دَور کا آغاز تھا۔ 9جنوری1991ء کو مسلم کمرشل بینک کو56 روپے فی شیئر کی قیمت پر فروخت کردیا گیا اور 8 اپریل 1991ء کو بینک کا انتظام چیئرمین میاں منشا کی زیرِ قیادت نئی انتظامیہ نے سنبھال لیا۔ 10اگست1991ء کو الائیڈ بینک کو 70روپے فی شیئرکی قیمت پر بینک کے7ہزار ملازمین کوفروخت کیا گیااوربینک کا انتظامی کنٹرول چیئرمین خالد لطیف کی زیرِنگرانی الائیڈ مینجمینٹ گروپ کے حوالے کیا گیا۔
اس موقعے پر وزیرِاعظم نواز شریف نے شیئرز خریدنے کے لیے ملازمین کو پانچ کروڑ روپے بھی دینے کا اعلان کیا، جب کہ کارکنوں پر پانچ سال تک شیئرز فروخت نہ کرنے کی پابندی عائد کی گئی، نیز 30جون 1997ء کو وفاقی حکومت نے بینک ملازمین کے لیے بنائے گئے ویج کمیشن کو بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
بعدازاں، جنرل پرویز مشرف کے دَورِ صدارت میں 5 ستمبر 2002ء کو یونائیٹڈ بینک کو بیسٹ وے ہولڈنگ اینڈ ابوظبی گروپ نے 12ارب 35کروڑ روپے میں جب کہ 29 دسمبر2003 ء کو پاکستان کے سب سے بڑا حبیب بینک کو آغا خان فنڈز نے خرید لیا۔
ہر چند کہ بینکس کی نج کاری کا بنیادی سبب قرضوں کی بندربانٹ بتایا جاتا ہے، لیکن پرائیویٹائزیشن کی اس پالیسی سے نہ صرف ڈاؤن سائزنگ اور رائٹ سائزنگ کی آڑ میں ہزاروں افراد ملازمت سےفارغ ہوئے، بلکہ مُلک کے دُور درازعلاقوں میں عوامی سہولت کے لیے قائم کئی برانچز بند ہونے سے عوام کے لیے قرض لینا بھی مشکل ہوگیا ہے۔
میاں نواز شریف نے اپنے پہلے دَورِ وزارتِ عظمیٰ میں 26اگست 1991ء کو نجی شعبے کے تحت بینکس قائم کرنے کی اجازت دیتے ہوئے 10 نئے نجی کمرشل بینک کو لیٹر آف اینٹینٹ جاری کیے، جب کہ وزیرِاعظم، بےنظیر بُھٹّو کے دوسرے دَور میں تین مزید نئے تجارتی بینک قائم کرنے کی منظوری دی گئی۔ 1991ء سے 2001ء تک نجی شعبےکےتحت14 بینکس قائم کرنے کی منظوری دی گئی، جن میں سے دوکُھل نہ سکے۔ دو بینکس، مہران اور انڈس بدعنوانی کے الزام میں بند ہوگئے۔ چار بینکس کے مالکان نے اُنہیں فروخت کردیا، البتہ اسٹیٹ بینک کی پالیسی کے سبب بندبینکس کے انضمام کے باوجود اکاؤنٹ ہولڈرز کے اثاثے محفوظ رہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سرکاری، نجی، ڈیجیٹل اور غیرمُلکی سمیت کمرشمل بینکس کی کُل تعداد29ہے، جن کی مُلک بَھر میں تقریباً 18000شاخیں قائم ہیں۔ پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں 19بینکس لسٹڈ ہیں، جن میں الائیڈ بینک، عسکری بینک، بینک آف پنجاب، بینک الفلاح، بینک الحبیب، بینک المکرمہ، بینک آف خیبر، بینک اسلامی پاکستان، فیصل بینک، حبیب بینک، حبیب میٹروپولیٹن، جے ایس بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک، نیشنل بینک، سامبا بینک، سونیری بینک، ایس ٹی چارٹ بینک اور یونائیٹڈ بینک شامل ہے۔
گرچہ بینکس مالی لین دین کا محفوظ ذریعہ ہیں، لیکن آج بھی پاکستان کے صرف30 فی صد عوام ہی ان سے مستفید ہورہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بینکاری نظام پر عوام کے اعتماد میں اضافہ کیا جائے اوراس ضمن میں بینکس کو عوام کو ارزاں نرخوں پر شفافیت پر مبنی خدمات فراہم کرنی چاہئیں۔