• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میر رضا کیس میں اے ایس پی ندا کمیشن میں پیش، سخت جرح

کراچی(اسٹاف رپورٹر) اے ایس پی ندا نے جوڈیشل کمیشن کے روبرو میر رضا کی منگیتر سے ملاقات کرنے کی وجہ بتادی۔میر رضا کیس میں اے ایس پی ندا کمیشن میں پیش، سخت جرح۔بزنس پارٹنر عابد کا بیان، میر رضا کو ستر ستر لاکھ انویسٹمنٹ، کوئی تحریری معاہدہ نہیں۔سیکرٹری صحت، ڈی جی ہیلتھ، ایس ایس پی سمیع اللہ کو نوٹس، سماعت جمعرات تک ملتوی کردی۔ تفصیلات کے مطابق میر رضا کمیشن کی کارروائی جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں شروع ہوئی۔ کمیشن نے میر رضا کے بزنس پارٹنر عابد فاروق کو روسٹرم پر طلب کرلیا۔ جسٹس عمر سیال نے استفسار کیا کہ آپ کیا کام کرتے ہیں؟ عابد فاروق نے کہا کہ مختلف کام ہیں انویسٹمنٹ، کیٹل فارمنگ اور موبائل فون امپورٹ کا کام بھی ہے۔ میر رضا کے ساتھ بزنس میں پارٹنرشپ بھی تھی۔ کمیشن نے پوچھا کہ آپ کا کوئی کاروبار یونیورسٹی روڈ پر واقع ہے؟ عابد نے کہا کہ میر رضا کے بزنس میں 70، 70 لاکھ کی دو انویسٹمنٹ ہیں۔ کمیشن نے پوچھا کہ آپ کے پاس انویسٹمنٹ کا معاہدہ ہے؟ عابد نے کہا کہ ہمارے درمیان کوئی تحریری معاہدہ نہیں، واٹس ایپ پر چیٹ موجود ہے۔ کمیشن نے پوچھا کہ آپ کی انوسٹمنٹ صرف میر کے ساتھ تھی یا احمد کے ساتھ بھی تھی؟عابد نے کہا کہ دونوں ساتھ آئے تھے پیمنٹ لینے کے وقت۔ کمیشن نے پوچھا کہ آپ میر رضا کو کیسے جانتے تھے؟ عابد نے کہا کہ میر رضا گریجویشن کے بعد بچوں کو ٹیوشن پڑھانے آتا تھا۔ کمیشن نے پوچھا کہ میر رضا کے بزنس کے علاوہ بھی کوئی سرمایہ کاری کی ہے؟ عابد نے کہا کہ میر رضا کے والد کے بزنس میں اگست 2025 میں میر رضا کے کہنے پر پارٹنرشپ کے لئے پہلے پچاس لاکھ اور مارچ 2026 میں ایک کروڑ روپے انویسٹمنٹ کی تھی۔ کمیشن نے سوال کیا کہ آپ کو سرمایہ کاری پر منافع مل رہا تھا؟ عابد نے کہا کہ اپریل 2026 سے پہلے منافع ٹھیک تھا، اپریل کے بعد منافع کچھ کم ہوا تھا۔ کمیشن نے استفسار کیا کہ آپ نے پولیس کو بتایا کہ اپریل کے بعد سے کوئی پیمنٹس نہیں مل رہی تھی۔ عابد نے کہا کہ میر رضا اور احمد نے کہا تھا کہ کچھ دیر ہے پیمنٹ مل جائے گی۔ میر رضا کے ساتھ بہت دوستانہ تعلق تھا، کبھی کسی پریشانی یا مشکل کا ذکر نہیں کیا۔ کمیشن نے پوچھا کہ آپ کو میر رضا کے بزنس میں نقصان سے متعلق معلومات ہیں؟ عابد نے کہا کہ کسی اور بزنس میں بھی نقصان کی معلومات نہیں۔ کمیشن نے پوچھا کہ اپریل کے بعد میر رضا سے کتنی ملاقاتیں ہوئیں؟ عابد نے کہا کہ میر رضا کے ساتھ بہت ملاقاتیں ہوتی رہیں، عید قرباں کے موقع پر قربانی خریدنے بھی ساتھ گئے۔ میر رضا نے کبھی مالی دباؤ کا ذکر نہیں کیا۔ کمیشن نے پوچھا کہ میر رضا نے گمشدگی سے قبل تین کروڑ مانگے، آپ کو علم ہے کیوں مانگے ہونگے؟ عابد نے کہا کہ مجھے علم نہیں، رضا سے گفتگو میں کبھی ایسی بات نہیں ہوئی۔ کمیشن نے سوال کیا کہ پولیس نے آپ کو کب بلایا تھا؟ عابد نے کہا کہ شاید 16 اگست کو پولیس نے بیان ریکارڈ کروانے بلایا تھا۔ پولیس کو بھی سرمایہ کاری سے متعلق بیان دیا تھا۔ ڈی آئی جی عامر فاروقی نے کرپٹو، بزنس پارٹنر احمد اور میر رضا سے متعلق سوالات کئے تھے۔ کمیشن نے پوچھا کہ آپ کی میر رضا سے ہونے والے واٹس ایپ چیٹ پولیس نے لی ہے؟ عابد نے کہا کہ پولیس نے مجھ سے چیٹ کا ریکارڈ نہیں کیا۔ میں مدینہ میں تھا جب میر رضا کی گمشدگی کی اطلاع ملی۔ بعد میں شیری نے میر کی باڈی ملنے کا بتایا۔ کمیشن نے پوچھا کہ فیملی سے آپ نے ملاقات کی؟ عابد نے کہا کہ پولیس کو بیان دینے کے موقع پر فیملی سے ملاقات ہوئی تھی۔ کمیشن نے استفسار کیا کہ آپ کی اتنی انویسٹمنٹ کی، کیا وجہ ہے فیملی سے ملنے گھر نہیں گئے۔ کمیشن نے دوسرے پارٹنر آصف کو بھی روسٹرم پر طلب کرلیا۔ کمیشن نے آصف سے کہا کہ کیا آپ کچھ اور کہنا چاہتے ہیں؟ آصف نے کہا کہ میر رضا سے بہت اچھے تعلقات تھے۔ کمیشن نے پوچھا کہ آپ کا بھی یہی بیان ہے جو آپ کے بھائی عابد نے بتایا؟ آصف نے کہا کہ ہم بھائی ساتھ ہی ہوتے تھے۔ جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیئے پولیس نے جو آپکا بیان ریکارڈ کیا، کیا وہ پڑھ کر سنایا گیا؟ عابد نے کہا کہ ہمارا بیان کیمرے میں ریکارڈ کیا گیا، کبھی پڑھ کر نہیں سنایا گیا۔ کمیشن نے پوچھا کہ آپ کے پولیس کو دیئے بیان میں سوائے پیسے کے کچھ اور نہیں لکھا۔ آپ کے بیان میں کرپٹو کا ذکر ہے نا احمد سے متعلق کچھ ہے۔ عابد نے کہا کہ مجھ سے پولیس نے کرپٹو اور احمد کے بارے میں سوالات کئے تھے۔ مجھے علم نہیں وہ بیان میں شامل کیوں نہیں۔ کمیشن نے گواہ فیض الرحمان کو روسٹرم پر طلب کرلیا۔ کمیشن نے کہا کہ آپ کا ذکر گزشتہ کارروائی میں گواہ علی شاز نے کیا تھا۔ جسٹس عمر سیال نے استفسار کیا کہ آپ کیا کام کرتے ہیں؟ فیض نے کہا کہ میرا کافی شاپ اور چائنیز فوڈ کا بزنس ہے۔

اہم خبریں سے مزید