کراچی (نیوز ڈیسک) جنرل اسمبلی اجلاس کے پہلے روز غزہ اور فلسطین کی صورتحال نمایاں موضوع،اقوام متحدہ میں عالمی رہنماؤں کے اہم بیانات،گوتریس نے مغربی کنارے میں اسرائیلی پالیسیوں کو نسلی صفائی کے خطرے سے جوڑ دیا۔اردوان نے غزہ کو بچوں کا دنیا کا سب سے بڑا قبرستان قرار دیا،اردن کے شاہ عبداللہ نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو جنگی جرم قرار دیا۔لولا کی فلسطینیوں کیخلاف کارروائیوں اور غیر قانونی بستیوں پر تنقید ،صدرٹرمپ نے غزہ امن منصوبے اور سلامتی کونسل کی منظوری کو اجاگر کیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے پہلے روز غزہ اور فلسطین کی صورتحال عالمی رہنماؤں کی تقاریر کا نمایاں موضوع رہی۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی تشدد، فلسطینیوں کی بے دخلی اور غیر قانونی بستیوں کی توسیع امن کی راہ کو تباہ کر رہی ہے اور نسلی صفائی کا خطرہ بڑھا رہی ہے، جبکہ انہوں نے اسرائیل اور فلسطین کے لیے دو ریاستی حل پر زور دیا۔ برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں اور مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں پر تنقید کرتے ہوئے دو ریاستی حل کو قابلِ عمل قرار دیا، ساتھ ہی حماس کے حملوں کی بھی مذمت کی۔