اسلام آباد (اے پی پی) سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سرکاری ریونیو ریکارڈ میں درج انتقالات اور دیگر اندراجات کو ویسٹ پاکستان لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کی دفعہ 52 کے تحت سچائی کا قانونی مفروضہ حاصل ہوتا ہے جسے صرف ٹھوس اور قابل اعتماد شواہد کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ محض تحفہ (ہبہ) یا ریونیو ریکارڈ میں درج انتقال پر اعتراض کافی نہیں، بلکہ اسے چیلنج کرنے والے فریق کو فراڈ، جعلسازی یا ریکارڈ کی غلطی کے حوالے سے ٹھوس اور قابل اعتماد شواہد پیش کرنا ہونگے۔جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بلوچستان میں اراضی ملکیت کے تنازع سے متعلق عبداللطیف وغیرہ کی سول پٹیشن خارج کرتے ہوئے اپیل کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔جسٹس عقیل احمد عباسی کی جانب سے تحریر کیے گئے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ مدعا علیہ عبدالجبار کے حق میں 30 اکتوبر 1998 کو درج انتقال نمبر 448 کو درخواست گزاروں یا سابق مالک کے قانونی ورثا نے کبھی ریونیو حکام یا کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا۔