لاہور(سودی)گزشتہ روز سٹاک مارکیٹ پھر مندے کا شکار ہو گئی،آخر میں ساڑھے تین سو سے زائد کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی تھی جبکہ انڈیکس اور مجموعی مالیت بھی کم ہو گئی۔مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز تیزی سے ہوا پھر اتار چڑھائو اور اس کے بعد شروع ہونے والا مندا آخر تک جاری تھا۔اس دوران انڈیکس میں 259پوائنٹ کا اضافہ بھی ہوا اور 1814پوائنٹ کی کمی بھی،سٹہ والے وہ حصص جن کی قیمتوں اور کاروباری حجم میں مصنوعی اضافہ کیا جا رہا تھا۔زیادہ تر پریشر ہی میں رہے اور ان حصص میں ٹریڈنگ کرنے والوں کو بھاری نقصان کا سامنا تھا۔گزشتہ روز کاروباری حجم میں ایک دن قبل کے مقابلہ میں کمی تھی جبکہ زیادہ سرگرمی ریفائنری، پاور،ٹیکنالوجی،سٹیل اور آئل سیکٹر میں رہی۔ مارکیٹ میں سب سے زیادہ خریداری میوچل فنڈز نے کی،ساتھ ہی بیرونی فنڈز مقامی،نجی سرمایہ کاروں،انشورنس سیکٹراور اداروں کی بھی نیٹ خریداری تھی۔ان کے برعکس بینکوں نے غیر معمولی سیلنگ کی جبکہ کمپنیوں اور بروکروں کی بھی نیٹ سیل تھی،امریکہ،ایران مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہونا،تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور ریفائنری پالیسی میں تعطل اثر انداز تھے۔اختتام پر انڈیکس 1734پوائنٹ کم ہو کر 170499پر آ گیا، 101کمپنیوں میں اضافہ، 358میں کمی اور 36میں استحکام رہا،75کروڑ 99لاکھ حصص کا کاروبار ہوا۔