• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سہیل آفریدی کی وزارتِ اعلیٰ دباؤ میں، لانگ مارچ منسوخ کرنا ہی واحد راستہ

اسلام آباد:…پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنا 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب ہونے والا لانگ مارچ مؤخر کرکے 4 اکتوبر کو کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم اس فیصلے سے بنیادی سیاسی تعطل ختم ہونے کا امکان نہیں، کیونکہ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ محض تاریخ تبدیل کرنے سے وہ سیاسی گنجائش یا ریلیف حاصل نہیں ہوگا جس کی پارٹی کو تلاش ہے۔ اسی دوران احتجاجی حکمت عملی کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سیاسی پوزیشن بھی سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ صورتحال سے باخبر ایک ذریعے نے اس نمائندے کو بتایا کہ وزیراعلیٰ کے طور پر سہیل آفریدی کی پوزیشن اب شدید خطرے سے دوچار سمجھی جا رہی ہے۔ لانگ مارچ مؤخر کرنے سے بظاہر تاریخ تبدیل ہوئی ہے لیکن پی ٹی آئی اور حکام کے درمیان بنیادی مسئلہ تبدیل نہیں ہوا۔ پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی قیادت کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ مارچ مؤخر کرکے نئی تاریخ مقرر کرنے سے مسئلہ خود بخود حل نہیں ہوگا۔ ذرائع نے بتایا کہ اگر پی ٹی آئی سیاسی گنجائش دوبارہ حاصل کرنا چاہتی ہے اور سیاسی رابطوں کے ذریعے کسی بامعنی ریلیف کی توقع رکھتی ہے تو اسے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے اختیار کیے جانے والے وسیع تر طریقہ کار پر نظر ثانی کرنا ہوگی، بالخصوص بار بار لانگ مارچ، سڑکوں کی بندش اور وفاقی دارالحکومت کو بند کرنے کی کوششوں پر۔ ذرائع کے مطابق اب معاملہ 27 ستمبر یا 4 اکتوبر کا نہیں رہا بلکہ اصل مسئلہ بار بار سڑکوں پر احتجاجی اجتماع اور سڑکوں کی بندش کی سیاست ہے۔ پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے جمعہ کو 27 ستمبر کا لانگ مارچ مؤخر کرکے 4 اکتوبر کو کرنے کا فیصلہ کیا۔ بتایا گیا ہے کہ لانگ مارچ 4 اکتوبر کو پشاور سے روانہ ہوگا۔ یہ فیصلہ کئی روز کی بھرپور تیاریوں اور وفاقی و پنجاب حکومتوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر سکیورٹی انتظامات کے بعد سامنے آیا۔ اسلام آباد اور پنجاب کے کئی اضلاع میں رینجرز تعینات کردی گئی ہے، جبکہ مجوزہ احتجاجی اجتماع سے قبل اہم راستوں کو بند یا محدود کردیا گیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ لانگ مارچ مؤخر کرنے کا فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں نے چند گھنٹے قبل ہی عوامی طور پر اصرار کیا تھا کہ سڑکوں کی بندش اور حکومت کے دیگر اقدامات کے باوجود مارچ ہوگا۔ سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ احتجاج پُرامن ہوگا اور اجتماع کے آئینی حق سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس اچانک فیصلے نے پی ٹی آئی کے اندرونی مباحثے کو مزید بڑھا دیا ہے، جہاں پارٹی قیادت کا ایک دھڑا سڑکوں پر احتجاج جاری رکھنے کے حق میں ہے، جبکہ بعض سینئر رہنماؤں نے زیادہ محتاط سیاسی حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق بعض سینئر رہنماؤں نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ کشیدگی کو موجودہ سطح تک پہنچنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے، تاہم ان کے مشورے کو وہ اہمیت نہیں دی گئی جس کی وہ توقع کر رہے تھے۔ خیبر پختونخوا کی صورتحال خاص طور پر مشکل ہے، جہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ احتجاجی سرگرمیوں کے حوالے سے صوبائی حکومت کے لیے انتظامی اختیار استعمال کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ان ذرائع کے مطابق نہ پولیس اور نہ ہی ضلعی انتظامیہ صوبائی حکومت کی ہدایات پر اس انداز میں عمل کر رہی ہے جس کی پی ٹی آئی قیادت توقع کرتی ہے۔ پی ٹی آئی حلقوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ پولیس نے بعض صوبائی وزرا کی رہائش گاہوں پر چھاپے مارے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں اور ارکانِ صوبائی اسمبلی کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اس صورتِ حال کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ خیبر پختونخوا میں حکومت ہونے کے باوجود صوبائی حکومت کے اندر سیاسی اور انتظامی بے بسی کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔

اہم خبریں سے مزید