اسلام آباد (فخر درانی) پاکستان میں بدعنوانی اسکور میں بہتری، اعداد و شمار پر سوالات، کرپشن پرسیپشنز انڈیکس اسکور میں ایک پوائنٹ اضافہ، حساب طریقہ کار، شواہد اور بدعنوانی عکاسی پر تحفظات، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے سی پی آئی کے طریقہ کار کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے اسکور میں ہونے والی تبدیلی معمولی اور شماریاتی اعتبار سے نمایاں نہیں تھی۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسیپشنز انڈیکس (سی پی آئی) میں پاکستان کے اسکور میں ایک پوائنٹ بہتری آئی ہے، تاہم درجہ بندی کے پسِ پردہ اعداد و شمار اور طریقۂ کار کے جائزے سے یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ اسکور کس طرح مرتب کیا جاتا ہے، اس کی کتنی آزادانہ تصدیق ممکن ہے اور بین الاقوامی تصورات کس حد تک عام پاکستانیوں کے عملی تجربے سے مطابقت رکھتے ہیں۔ یہ سوالات محض درجہ بندی تک محدود نہیں۔ بدعنوانی اور طرزِ حکمرانی کے اشاریے اس وسیع تر معلومات کا حصہ ہیں جو غیر ملکی سرمایہ کار، کاروباری ادارے، قرض دہندگان اور بین الاقوامی ادارے کسی ملک کے خطرات کا جائزہ لیتے وقت مدنظر رکھتے ہیں۔ سی پی آئی نہ سرمایہ کاری کی درجہ بندی ہے اور نہ کریڈٹ ریٹنگ، نہ ہی یہ آئی ایم ایف کے قرض کی کوئی شرط ہے، تاہم یہ کسی ملک کے مجموعی خطرات کی تصویر میں اپنا حصہ ڈال سکتا ہے۔ آئی ایم ایف کی پاکستان کیلئے 2025ء کی گورننس اینڈ کرپشن ڈائگنوسٹک رپورٹ کے مطابق بدعنوانی اور طرزِ حکمرانی کی کمزوریاں معاشی ترقی اور سرمایہ کاری کو نمایاں طور پر متاثر کرتی ہیں۔ تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ سی پی آئی میں ہر ایک پوائنٹ کی بہتری کسی ملک کی شرحِ سرمایہ کاری میں 4؍ فیصد اضافے سے جڑی ہے، تاہم اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ محض باہمی تعلق ہے، براہِ راست سببیت کا ثبوت نہیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا 2025ء کا سی پی آئی، جو فروری 2026ء میں جاری کیا گیا، پاکستان 100؍ میں سے 28؍ اسکور کے ساتھ 182؍ ممالک میں 136ویں نمبر پر ہے۔