• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جعلی ڈگریوں کی مہم کے پس پردہ زمین کا تنازع؟

اسلام آباد(عمرچیمہ )مانسہرہ میں جائیداد کا ایک تنازع اب قومی سطح پر وکلا کی جعلی ڈگریوں کے خلاف مہم کی صورت اختیار کرگیا ہے، جس نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) کے انتخابات کے عین دوران کئی اہم ناموں کو بھی اس معاملے میں کھینچ لیا ہے۔ کیپٹن (ر) صفدر، جو مریم نواز کے شوہر ہیں، اس مہم کی قیادت کر رہے ہیں اور وکلا برادری سے ’’جعلی ڈگری رکھنے والوں‘‘ کو نکال باہر کرنے کے عزم کا اظہار کرچکے ہیں۔تاہم اس مہم کے ساتھ ان کا سابق سپریم کورٹ جج جسٹس اعجاز افضل خان کے ساتھ گزشتہ پانچ برس سے جاری ایک جائیداد کا تنازع بھی جڑا ہوا ہے۔ مانسہرہ ڈسٹرکٹ بار نے معاملے پرجسٹس اعجاز کا ساتھ دیا،امیدوارایڈووکیٹ امجد کو جسٹس اعجاز کی حمایت حاصل، امجد کی ڈگری2022 میں چیلنج ہوئی۔امجد ،اعظم نذیرتارڑ گروپ کے امیدوار،بات احسن بھون کی ڈگری تک پہنچ گئی،تاہم حال ہی میں احسن بھون نے کیپٹن صفدر کو جونوٹس دیا ہے اس میں کہا ہے کہ جنوری میں کنٹرولر امتحانات پنجاب یونیورسٹی نے پاکستان بار کونسل کی جانب سے جانچ پڑتال کے دوران ان کی ڈگری تصدیق کردی تھی۔دونوں کے درمیان مانسہرہ کے گاؤں دارہ میں مشترکہ کھاتے کی ایک جائیداد پر اختلاف چلا آرہا ہے۔ محمد اسحاق، جو صفدر کے والد ہیں، نے 1997 میں 164 کنال پر مشتمل اراضی میں سے 10 کنال کا قطعہ خریدا تھا، جو دو سال بعد انہوں نے اپنے بیٹے کو ہبہ کردیا۔صفدر کے مطابق یہ اراضی گزشتہ 25 برس سے ان کے خاندان کے قبضے میں ہے۔

اہم خبریں سے مزید