اسلام آباد، پشاور (نیوز رپورٹر، نمائندہ جنگ، ایجنسیاں) وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں دوبارہ گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے پر غور شروع کردیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور گورنر فیصل کریم کنڈی کے درمیان ملاقات میں اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ صوبے کو دہشت گردی اور تباہی سے بچانے کیلئے آئینی دائرہ کار میں مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں، محسن نقوی کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کے ذمہ دار صرف سہیل آفریدی ہیں، اب کوئی مذاکرات نہیں ہونگے، انہوں نے خبردار کیا کہ اسلام آباد کی طرف پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران اگر کسی کا جانی نقصان ہوا تو اسکی تمام تر ذمہ داری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پر عائد ہوگی، فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کا سرکاری ہیلی کاپٹر پر لانگ مارچ میں پہنچنا توہین عدالت ہے، دوسری جانب پی ٹی آئی نے لکی مروت سے لانگ مارچ کا آغاز کر دیا ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گورنر راج مانتے ہیں نہ ایمرجنسی،یہاں کوئی آپریشن نہیں ہوگا، ہم پہلے بھی باغی تھے اور آج بھی ہیں، سلمان اکرم راجا کا کہنا ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات ناکام ہونےکی وجہ حکومتی اصرار تھا،حکومت مذاکراتی کی بحالی کے سوا کچھ دینے کو تیار نہ تھی، اسد قیصر نے کہا کہ مذاکرات میں ڈیڈ لاک عمران خان تک عدم پر ہوئے، شیری رحمن نے کہا کہ تحریک انصاف نے معاہدے پر اتفاق کے بعد انکار کیا، عطا ء تارڑ کا کہنا ہے کہ کے پی حکومت دہشت گردی پھیلانےکی ذمہ دارہے ،رانا ثناء اللہ نے کہا لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے نہیں دیا جائیگا،جبکہ ترجمان پی ٹی آئی خیبرپختونخوا نے کہنا ہے کہ مطالبات تسلیم ہونے تک لانگ مارچ ختم نہیں ہوگا۔ سہیل آفریدی کی قیادت میں لانگ مارچ لکی مروت سے کرک پہنچ گیا،رات کے قیام کے بعد آج (پیر کو)کرک سے روانہ ہو گا ۔علاوہ ازیں سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں حکومت کے سامنے 7مطالبات رکھے تھے۔ تفصیلات کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے درمیان گورنر ہاؤس پشاور میں ہونے والی ملاقات میں صوبائی سطح پر متعدد اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے صوبہ میں بڑھتی بدامنی، سیاسی صورتحال اور لانگ مارچ سے پیدا صورتحال کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔ ملاقات میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیاکہ لانگ مارچ کے دوران دہشت گردوں کو سکیورٹی چیک پوسٹوں سے بحفاظت کراس کرانے کی سہولت کاری فراہم کرنے کا خدشہ ہے ، مذاکراتی عمل میں دہشت گردی کیخلاف کارروائیوں کے حوالہ سے صوبائی حکومت کا رویہ اور کردار عوام اور صوبہ دشمنی کے مترادف تھا۔ ملاقات میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اور صوبائی وزراء کے لانگ مارچ میں ہیلی کاپٹر اور دیگر سرکاری وسائل کے استعمال کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ صوبہ کو دہشت گردی اور تباہی سے بچانے کیلئے جب بھی صدر مملکت اور وزیر اعظم گورنر راج یا ایمرجنسی لگانا ضروری سمجھیں تو گورنر ہاؤس بھرپور آئینی کردار ادا کریگا۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے لکی مروت کے علاقے گنڈی چوک سے لانگ مارچ کے پہلے مرحلے کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کو نہیں مانتے، خیبرپختونخوا میں حکومت عمران خان کی ہے۔لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم ایک سیاسی قوت اور سیاسی جماعت ہیں، کل جو مذاکراتی کمیٹی اسلام آبادگئی وہ سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کیلئے گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایک مائنڈ سیٹ جو بند کمروں میں فیصلے کرتاہے، کل وہ ایک اور فیصلہ آپ پر مسلط کرنے جا رہا تھا، یہاں پر عمران خان کی حکومت ہے اور یہاں عمران خان کا وژن اور پالیسی ہی چلے گے، ہم جی جناب والے نہیں ہیں نہ گورنر راج اور نہ ایمرجنسی مانتے ہیں۔ وفاق میں جب پی ٹی آئی کی حکومت تھی اس وقت امن تھا، موجودہ وفاقی حکومت کی پالیسی سے دہشت گردی ختم نہیں ہوئی بلکہ مزیدبڑھی ہے۔ سہیل آفریدی نے دعوی کیا کہ جوپالیسی وہ دے رہے ہیں اس سے100 دن میں امن قائم ہوسکتاہے۔انہوں نے کہا کہ انکی نیت پاکستان تحریک انصاف کو ختم کرنا ہے مگر ان کا باپ بھی یہ نہیں کر سکتا۔