ناگویا/کراچی ( نصر اقبال،نمائندہ خصوصی/ اسٹاف رپورٹر) ایشین گیمز میں پاکستانی دستے کی مایوس کن کار کردگی نے کھیلوں کے حلقوں کے غصے میں اضافہ کردیا، پاکستان نے اس بار بھی کوئی گولڈ میڈل نہیں حاصل کیا۔ 2010 کے ہانگزو ایشین گیمز میں پاکستان 20ویں پوزیشن پر تھا جبکہ اس بار وہ 29ویں نمبر پر آیا۔ آخری مرتبہ2014 میں خواتین کرکٹ کے فائنل میں بنگلہ دیش کو ہرا کر جیتا تھا۔ 2002 کے بوسان ایشین گیمز کے بعد پانچ ایشین گیمز مقابلوں میں پاکستانی کھلاڑی میڈلز میں ڈبل ہندسے کو نہ چھوسکے، بوسان میں پاکستان نے ایک گولڈ، چھ سلور اور چھ برانز میڈلز جیتے تھے۔ تاہم ناگویا میں پاکستان نے دس میڈلز جیتے،2022 گیمز میں تین میڈلز پر اکتفا کرنا پڑا تھا جس میں ایک سلور اور دو برانز میڈلز شامل تھے، پاکستان میں کھیلوں کے حلقوں اور شائقین کا کہنا ہے جس ملک میں سفارش پر ٹیموں کا انتخاب کیا جائے گا وہاں میڈل کی امیدیں کیسے وابستہ کی جاسکتی ہیں۔ پاکستان اسپورٹس بورڈ اور پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کے درمیان اختلافات اور بڑے مقابلوں کی تیاری کے لئے کوئی منصوبہ بندی نہ ہونے کے سبب ایسے نتائج ہی سامنے آتے ہیں۔مبصرین اور ماہرین نے وزیر اعظم شہباز شریف سے اپیل کی ہے کہ گولڈ میڈل نہ جیتنے پر کھیلوں کے منتظمین کا احتساب کیا جائے۔دریں اثنا ایشین گیمز میں برترین کارکردگی دکھانے والی دیگر ٹیموں کے ساتھ سافٹ ٹینس ٹیم کی خاموشی سے وطن واپس پہنچ گئی، اسپورٹس حلقوں نے بین الصوبائی رابطے کے وزیر رانا ثناء اللہ سے ٹیموں کے احتساب اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے کھلاڑیوں سے سفری اور دیگر اخراجات کی مد میں بھاری رقوم وصول کئے جانے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔ مبنیہ طور پر سافٹ ٹینس ایسوسی ایشن نے لاکھوں روپے لیکر درجن سے زائد کھیل سے واقف افراد کو کھلاڑی اور کوچ بنا کر بھیجا ۔ جنگ نے موقف جاننے کیلئے جب نوشاد احمد سے رابطہ کیا تو ان کے دونوں فون نمبر بند تھے۔