ناگویا (نصر اقبال/ نمائندہ خصوصی) بدانتظامی، رہائشی مسائل اور کھلاڑیوں کی شدید ناراضی کے ساتھ اتوار کو ختم ہونے والے 20ویں ایشین گیمز کو کھلاڑیوں نے ایک ”ڈرائونا خواب“ قرار دے دیا ہے، کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ چھوٹے بستروں اور ایک جیسے جاپانی کھانوں نے انہیں شدید ذہنی کوفت میں مبتلا رکھا ۔ سوشل میڈیا پر تصویروں کے ذریعے جاپانی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیڈیمز اور جمنازیمز کے درمیان طویل فاصلوں نے تھکائے رکھا ، کنٹینرز میں رہائش گاہوں میں بستر اتنے چھوٹے تھے کہ پاؤں پھیلانا بھی محال تھا ۔ دراز قد کھلاڑیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ذرائع کے مطابق پاکستانی کھلاڑیوں نے بھی مقامی افراد کے گھروں میں راتیں گزاریں، منتظمین کی بدحواسی کا یہ عالم تھا کہ خواتین بیڈمنٹن کی فاتح جنوبی کوریا کی عالمی نمبر ون کھلاڑی آن سی ینگ کو گولڈ کے بجائے سلور میڈل پہنا دیا گیا جبکہ جاپان کی اکانے یاماگوچی کو چاندی کے بجائے سونے کا تمغہ دے دیا گیا جسے بعد میں بدلا گیا۔ پریکٹس سیشنز کے لیے بسیں غلط مقامات پر جاتی رہیں ۔ اکثر رات کو دیر سے پہنچنے پر کھلاڑی کھانوں سے محروم رہے جبکہ اختتامی تقریب میں بدانتظامی پر ناگویا کے میئر ہیروساوا نے باضابطہ معذرت کر لی ہے۔