• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

PTI کے سندھ کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پی ٹی آئی کے سندھ کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں، کراچی پریس کلب جانے والے مختلف راستے بند، اطراف میں سکیورٹی سخت،متعدد افراد گرفتار۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی کال پر عمران خان کی رہائی، آئین و قانون کی بالادستی، مہنگائی کے خاتمے، عدلیہ کی آزادی اور عوام کے مینڈیٹ کی واپسی کیلئے کراچی، حیدرآباد، نوابشاہ، سکھر، میرپورخاص اور لاڑکانہ ڈویژن سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ سندھ کے مختلف اضلاع میں پی ٹی آئی رہنماؤں، ٹکٹ ہولڈرز اور کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ کراچی کے مختلف اضلاع، جن میں کورنگی، ایسٹ، ویسٹ، سینٹرل، ساؤتھ، ملیر اور کیماڑی شامل ہیں، میں احتجاجی ریلیاں اور مظاہرے کیے گئے۔ کراچی پریس کلب جانے والے مختلف راستے بند کیے گئے جبکہ پریس کلب کے اطراف سکیورٹی سخت کردی گئی۔ احتجاج میں شرکت کیلئے جانے والی خواتین اور کارکنوں کو روکا گیا اور متعدد افراد کو گرفتار کرکے مختلف تھانوں اور ویمن پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا۔ پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے سندھ بھر میں پرامن احتجاج کرنیوالے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلاول زرداری جمہوریت کے دعوے کرتے ہیں، لیکن سندھ میں سیاسی کارکنوں کیخلاف گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے دفعہ 144نافذ کی جاتی ہے اور جب شہری اپنے حقوق کے لیے پرامن آواز بلند کرتے ہیں تو انہیں گرفتار کرکے تھانوں میں منتقل کیا جاتا ہے، جو قابل مذمت ہے۔ پی ٹی آئی کا احتجاج پرامن ہے اور عمران خان کی رہائی، ملک میں آئین و قانون کی بالادستی، مہنگائی کے خاتمے اور عدلیہ کی آزادی کے لیے قوم آواز بلند کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی نے جو مطالبات پیش کئے تھے وہ آئینی اور جائز تھے، تاہم حکومت نے انہیں تسلیم کرنے کی بجائے گرفتاریوں اور کریک ڈاؤن کا راستہ اختیار کیا۔ کورنگی میں پی ٹی آئی کراچی ڈویژن کے صدر فہیم خان نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر کی طرح کراچی کے عوام بھی عمران خان کی رہائی کےلیے سڑکوں پر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فسطائیت، ظلم اور جبر کی صورتحال ہے۔
اہم خبریں سے مزید