کراچی (سید محمد عسکری) جامعہ کراچی میں ہاؤس رینٹ میں اضافے سے تنخواہوں کی ادائیگی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے جس کا باقاعدہ اظہار ڈائریکٹر فنانس نے وائس چانسلر کو سمری کی صورت میں کردیا ہے سمری کے مطابق 1,897 ملازمین کے لیے ہاؤس رینٹل سیلنگ میں اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔ ڈائریکٹر فنانس کی 21 ستمبر کی سمری کے مطابق نئے نرخ وفاقی حکومت کے 4 نومبر 2025 کے نوٹیفکیشن کی روشنی میں یکم نومبر 2025 سے نافذ کرنے کی تجویز ہے۔ سمری کے مطابق اضافے کے بعد ہاؤس رینٹ کی مد میں جامعہ کا ماہانہ خرچ 5 کروڑ روپے سے بڑھ کر 9 کروڑ 25 لاکھ 80 ہزار روپے ہوجائے گا، یعنی ماہانہ اضافی بوجھ 4 کروڑ 25 لاکھ 36 ہزار 893 روپے ہوگا۔ سالانہ بنیاد پر موجودہ 60 کروڑ 5 لاکھ روپے کا خرچ بڑھ کر 111 کروڑ 9 لاکھ 60 ہزار روپے سے زیادہ ہوجائے گا، جس سے جامعہ کو سالانہ تقریباً 51 کروڑ 4 لاکھ 42 ہزار روپے اضافی درکار ہوں گے۔نئے نرخوں کے تحت گریڈ ایک سے نو تک ملازمین کے لیے ہاؤس رینٹ کی ماہانہ شرح 12 ہزار 193 روپے سے ایک لاکھ 31 ہزار 548 روپے تک مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ جدول میں یکم نومبر 2025 سے آٹھ ماہ کا اضافی مالی اثر 34 کروڑ 2 لاکھ 95 ہزار 144 روپے بتایا گیا ہے۔ ڈائریکٹر فنانس نے خبردار کیا ہے کہ جامعہ کے موجودہ نقدی کے تخمینے اس مستقل اضافی خرچ کے متحمل نہیں اور فوری مالی معاونت کے بغیر سال کے دوران نقدی ختم ہونے اور تنخواہوں کی ادائیگی میں ناغے کا سنگین خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے اضافی ہاؤس رینٹ کے لیے حکومت سے خصوصی گرانٹ طلب کرنے کی سفارش کی ہے۔ سمری میں کیمپس کے رہائشی کوارٹرز میں بجلی کے الگ میٹر نصب کرنے کے لیے 50 کروڑ روپے اور بڑھتے ہوئے بجلی کے بل کم کرنے کے لیے سولر پینل کی تنصیب کی خاطر 80 کروڑ روپے کی الگ گرانٹ مانگنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ ڈائریکٹر فنانس کے مطابق ہاؤس رینٹل سیلنگ کی پالیسی پر مکمل عمل درآمد کے لیے ان مالی اقدامات کی ضرورت۔