اسلام آباد (فخر درانی) ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان (ٹی آئی پی) کئی برسوں سے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، طرزِ حکمرانی اور شفافیت کا جائزہ لیتی آ رہی ہے۔ لیکن خود اس نگران ادارے کی قانونی ساخت، کروڑوں روپے کی فنڈنگ، عطیہ دہندگان سے تعلقات، انتظامی انتظامات، شکایات سے نمٹنے کے طریقۂ کار اور بدعنوانی کی پیمائش کیلئے استعمال ہونے والے طریقۂ کار کا جائزہ کون لیتا ہے؟ ادارے کا کہنا ہے کہ ہماری تحقیق اور نتائج آزادانہ ہیں، ان پر کسی عطیہ دہندہ یا ادارے کا اثر نہیں اور ہمارا بورڈ نگرانی فراہم کرتا ہے جبکہ داخلی اور خارجی جائزے کیے جاتے ہیں۔دی نیوز کی جانب سے ٹی آئی پی کے ٹرسٹ ڈیڈ، شائع شدہ مالیاتی گوشواروں، سالانہ رپورٹس، انتظامی دستاویزات، بدعنوانی سے متعلق سرویز اور عدالتی کارروائیوں کے جائزے، نیز ادارے کی جانب سے فراہم کردہ جوابات سے انسدادِ بدعنوانی کے اس نگران ادارے کی آزادانہ نگرانی کی سطح سے متعلق سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ ٹی آئی پی سندھ کے انڈسٹریز اینڈ کامرس ڈائریکٹوریٹ میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان ٹرسٹ کے نام سے بطور ٹرسٹ رجسٹرڈ ہے۔ اس کا ٹرسٹ ڈیڈ، جو اصل میں 2002ء میں مرتب کیا گیا تھا اور بعد ازاں اس میں ترامیم کی گئیں، ادارے کو ایک وسیع مینڈیٹ دیتا ہے جس میں طرزِ حکمرانی، سیاست اور کاروباری معاملات میں شفافیت، بدعنوانی کیخلاف جدوجہد، قوانین اور پالیسیوں پر عمل درآمد اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ان سرکاری محکموں کے امور میں شفافیت شامل ہے جو ضابطہ کاری، نگرانی یا تحقیقات کے فرائض انجام دیتے ہیں۔