• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

KP میں گورنر راج، ایمرجنسی، فوج تعینات، 11 رکنی کونسل قائم، وزیراعلیٰ سمیت کئی اہم رہنما زیر حراست

اسلام آباد (رانا غلام قادر، خبر نگار، ایجنسیاں) خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کر دی گئی،وفاقی کابینہ نے آرٹیکل 232 اور 234 کے نفاذ کی منظوری دیدی، جس کے بعد صدر مملکت نے ایمرجنسی کے نفاذ کی سمری پر دستخط کر دیئے، گورنر راج کے بعد وفاقی حکومت نےخیبر پختونخوا میں فوج تعینات کردی اورخیبر پختونخوا میں گورنر کی سربراہی میں 11 رکنی ایڈوائزری کونسل تشکیل دیدی گئی ہے، ایمرجنسی اور گورنر راج نافذکے ساتھ ہی گورنر بطور ایڈمنسٹریٹر ذمہ داریاں سنبھالیں گے، فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ صوبے کو امن کا گہوارہ بنایا جائیگا، گورنر نے صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس آج طلب کرلیا ، گورنر راج کا نفاذ ہوتے ہی وزیراعلی سہیل آفریدی، صوبائی صدر جنید اکبر اور بابر سلیم سمیت پی ٹی آئی کے اہم رہنمائوں کو حراست میں لیا گیا ہے،سکیورٹی خدشات کے پیش نظر صوابی میں پی ٹی آئی کے56 کارکنوںکو گرفتار کر لیا گیا ہے، حکومت نے اسلام آباد میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا، پولیس کی بھاری نفری تعینات اور ریڈ زون میں داخلہ بند کر دیا گیا ہے،پشاور میں موبائل فون سروس بند، ریڈ زون سیل کر دیا گیا ہے، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر اقدامات 6 کیلئے ہیں، وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ کچھ اضلاع میں شام کے بعد لوگ گھروں سے نہیں نکل سکتے، لانگ مارچ والے منتشر ہوجائیں ورنہ کارروائی ہوگی، وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے انتظامی معاملات دہشت گردوں کے حوالے کیے، ان کیساتھ گزارا نہیں ہوسکتا تھا جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہرکا کہنا ہے کہ یہ ایمرجنسی کی آڑ میں بغاوت ہے، اقدام قابل مذمت ہے گورنر راج و ایمرجنسی کا معاملہ عدلیہ، اسمبلیوں اور عوامی فورمز پر اٹھائیں گے، اقدام سنگین سیاسی غلطی ہے، عوام ایسے اقدامات کو کبھی قبول نہیں کرینگے، وفاق فیصلہ واپس لے۔ تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی صورتحال اور صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآ مد میں عدم تعاون کے باعث بالآخر وفاقی حکومت نے صوبہ میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔ صدرمملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں سلامتی کی صورتحال پر وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کی سمری پر دستخط کیے۔ وفاقی حکومت نےخیبر پختونخوا میں فوج تعینات کردی۔ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔ آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت نافذ کردہ ایمرجنسی کے دوران فوج سول انتظامیہ کی معاونت کیلئے تعینات رہے گی، گورنرخیبرپختونخوا، ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ، جی ایچ کیو کے ساتھ مشاورت سے اس مقصد کیلئے درکار دستوں کی تعداد کا تعین کرینگے۔ دریں اثناء اتوار کو یہاں وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی پر خاموشی ملک دشمنی کے مترادف ہے۔ کے پی حکومت دہشت گردوں کیخلاف ایک لفظ نہیں بولی ۔ پانی سر سے اوپر جاچکا۔ اب فیصلے کا وقت ہے۔دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا وفاق کے ساتھ خیبرپختونخوا حکومت کی بھی ذمہ داری ہے، صوبائی حکومت کی عدم توجہ کی وجہ سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ،خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی بجائے خاموش تماشائی بن گئی ہے،10 سال میں خیبر پختونخوا حکومت کو دہشت گردی کے خاتمے کیلئے 800 ارب روپے دیئے گئے لیکن پولیس، سی سی ڈی کی استعداد کار میں اضافے پر کوئی توجہ نہیں دی،پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے معاملات بات چیت سے حل کرنے کو ترجیح دی،حکومتی ٹیم نے معاملہ فہمی کیلئے خلوص نیت سے کوشش کی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا مذاکرات میں طے پانے والے مسودے سے پیچھے ہٹ گئے،دہشت گردی کے واقعات کو پس پشت ڈالتے ہوئے اسلام آباد پر چڑھائی کا ناپاک منصوبہ بنایا گیا ،ملک کو دوبارہ تباہی کی طرف نہیں لے جانے دینگے، قانون اپنا راستہ اپنائے گا،افغانستان اغیار کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے، افغان سرزمین کا پاکستان کیخلاف دہشت گردی کیلئے استعمال ہرگز قبول نہیں،پاکستان کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کو ناکام بنائیں گے۔ دریں اثناء وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے سنگین خطرات، صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی اور آئینی مشینری کی ناکامی کے بعد آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت صوبے میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر کے صوبائی حکومت کو غیر فعال کر دیا ہے اور تمام تر انتظامی اختیارات گورنر خیبر پختونخوا کے سپرد کر دیے ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح صوبے میں امن و امان کی بحالی اور معمولاتِ زندگی کو معمول پر لانا ہے۔ انہوں نے احتجاج کرنے والے جتھوں کو فوری منتشر ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کبخلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر حفاظتی تحویل میں لینے سمیت گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جائیں گی۔ محسن نقوی نے بتایا کہ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت جنوبی پنجاب ماڈل کی طرز پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو گورنر اور چیف سیکرٹری کے ماتحت ایک مخصوص سیکرٹریٹ فراہم کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے تانے بانے دہشت گردوں سے جا ملتے ہیں، پی ٹی آئی دہشت گردی کے خاتمے کیلئے بالکل غیر سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کا دہشت گردوں کے ساتھ گہرا گٹھ جوڑ ہے جسکی وجہ سے صوبے کے انتظامی حالات تباہی کے دھانے پر پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس بیورو اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رپورٹس میں صوبے کی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سوا تمام سیاسی جماعتوں پر خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے حملے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں اور پی ٹی آئی کے درمیان پاور شیئرنگ تک بات پہنچ چکی تھی۔ دہشت گردوں کو صوبے میں محفوظ رسائی حاصل تھی اور انہیں مالی وسائل بھی فراہم کئے جاتے رہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ آج اس گروہ سے نجات حاصل ہوئی۔ وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے قانونی پہلوں پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد میڈیا کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔ کابینہ کے دو گھنٹے طویل اجلاس میں گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے موصولہ خط پر غور کیا گیا، جس میں آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت واضح کیا گیا تھا کہ صوبے میں آئینی بریک ڈان ہو چکا ہے اور حکومت کی رٹ غائب ہے۔ رپورٹڈ واقعات کے مطابق دہشت گردی میں 196 فیصد اضافہ ہوا اور سڈنی کی عالمی تنظیم نے پاکستان کو دہشت گردی سے بدترین متاثرہ ممالک میں سرِ فہرست رکھ دیا ہے، جس سے معیشت اور سرمایہ کاری کو شدید دھچکا لگ رہا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئین کا آرٹیکل 149(4) وفاق کو امن و امان سے متعلق صوبوں کو احکامات دینے کا اختیار دیتا ہے جبکہ آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت سنگین اندرونی اور بیرونی خطرات کے پیشِ نظر صدرِ مملکت نے ہنگامی اختیارات استعمال کیے۔ اعظم نذیر تارڑ نے احکامات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ صدارتی پروکلیمیشن کے تحت خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت غیر فعال ہو گئی ہے اور وزیر اعلی، صوبائی وزرا، مشیران، معاونینِ خصوصی اور ایڈوکیٹ جنرل کے اختیارات ختم کر کے تمام اختیارات گورنر کے پی کے سپرد کر دیے گئے ہیں جن کی معاونت کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دی جائے گی۔وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ صوبے کا چارج ایک گورنر اور مشاورتی کونسل سنبھالیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بندوبست ابتدائی طور پر چھ ماہ کیلئے ہوگا۔ علاو ہ ازیں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر، سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آئین، قانون اور جمہوری اقدار کے خلاف قرار دیا ہے۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ ہم نے ہمیشہ دہشت گردی کیخلاف آواز اٹھائی، صوبائی حکومت کے عدم تعاون کا بیانیہ غلط ہے، اگر 12 اضلاع میں دہشت گردی کا مسئلہ ہے تو پورے صوبے میں گورنر راج کیوں لگایا؟ 2 اکتوبر سے پہلے مذاکرات میں دہشت گردی کے معاملے پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عوام خود فیصلہ کرینگے جمہوریت کیخلاف اقدامات پر اپنی ناراضی کا اظہار کیسے کرنا ہے جبکہ علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ ملک میں بدامنی کی وجہ یہ حکمران ہیں، ہم ایسے آپریشن کی حمایت نہیں کر سکتے جہاں عام شہری شکار بنے، پاکستان میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل ہونا چاہئے۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک جمہوری جماعت ہے، ہم نے ہمیشہ دہشت گردی کیخلاف آواز اٹھائی۔ دہشت گردی کیخلاف موثر کارروائی کیلئے یکساں اور متفقہ لائحہ عمل ضروری ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے۔ صوبائی حکومت کے عدم تعاون کا بیانیہ غلط ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے 1500 کارکن پنجاب کی جیلوں میں قید ہیں،ہمارے 10 ایم پی ایز کو گرفتار کیا گیا جن میں تین وزراء بھی شامل ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے 8 ارکان قومی اسمبلی بھی گرفتار کئے گئے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہماری جماعت کے خلاف کارروائیوں کو دہشت گردی کے خاتمے سے جوڑنا درست نہیں۔ اس موقع پر تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن اور دیگر سیاسی رہنما مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ مذاکرات میں تسلی بخش پیش رفت ہو رہی تھی، ایمرجنسی نافذ کرنے میں جلدبازی کی گئی۔ دریں اثناء خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ ہوتے ہی وزیراعلی سہیل آفریدی کو حراست میں لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیراعلی سہیل آفریدی سے ملاقاتوں پر پابندی کر دی گئی تھی۔ وزیراعلی ہائو س میں کسی کو بھی اجازت نہیں تھی جبکہ وزیراعلی ہائو س کا اسٹاف بھی محدود کر دیا گیا۔ دریں اثناپی ٹی آئی کے ممبر قومی اسمبلی شاہد خٹک نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں اب آپ کی باری ہے، میں پشاور میں موجود ہوں، نکلو پشاور کی عوام اپنے محبوب لیڈر عمران خان کے لیے ،اس کے سپاہی کے لیے ،سب گھروں سے نکلو، خیبر کی عوام پشاور کا رخ کرے آپ کی تعداد جہاں بڑ ھ جائے گی میں وہاں موجود ہوں گا۔ جنوبی اضلاع بشمول کرک کی عوام نیشنل ہائی وے بند کردے۔ دریں اثناء سابق وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ عمران خان کے نام پر اور پختونوں کے سرکا​سودا ​نہیں کیا اور حکومت قربان کر دی ، عمران خان کے الفاظ کی لاج رکھ لی۔

اہم خبریں سے مزید