• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گورنر راج مجبوری تھی، پی ٹی آئی کو سمجھایا، رانا ثناء اللہ

کراچی (ٹی وی رپورٹ) وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ گورنر راج مجبوری تھی، پی ٹی آئی کو سمجھایا۔ پولیس کے پاس جدید اسلحہ تک نہیں تھا، فنڈ ملنے کے باوجود سہولتیں فراہم نہیں کی گئیں، گورنر راج چھ ماہ رہے گا۔ وہ جیو نیوز کے ’’جرگہ‘‘ میں سلیم صافی سے گفتگو کررہے تھے۔ تفصیلات کے مطابق پروگرام کے آغاز میں میزبان سلیم صافی نے کہا کہ ن لیگ کے ساتھ 12 اکتوبر ہوا تھا اور انہوں نے پی ٹی آئی کے ساتھ 11 اکتوبر کردیا ۔جس بات کا خدشہ جرگہ پروگرام میں گزشتہ دو تین ہفتوں سے کیا جارہا تھا بالآخر وہ کام ہوگیا یہ فیصلہ وفاقی حکومت نے کیونکر کیا اور ایک لحاظ سے عوامی مینڈیٹ سے جو حکومت آئی تھی اس کو کیونکر رخصت کیا گیا جو اقدام وفاقی حکومت نے اٹھایا ہے دیکھتے ہیں اس کے کیا دلائل ہیں حکومت کے پاس اور کیا نتائج اس کے برآمد ہوں گے ۔۔وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا کہ گورنر راج کا نفاذ ہم نہیں چاہتے تھے لیکن جب حالات ایسے پیدا کردیئے گئے تب بھی ہم نے متعدد مرتبہ پی ٹی آئی کی حکومت کو سمجھایا بھی اور موقع بھی دیا کہ وہ اپنے رویہ میں تبدیلی لائیں اور اپنے سیاسی ایجنڈے کو جوقومی ایجنڈا ہے اس پر ترجیح نہ دیں اگر ان کو احتجاج کرنا ہے تو جو احتجاج کرنے کے طریقے ہیں ان پر عمل کریں اسلام آباد پر حملہ آور ہونا یہ کوئی جمہوری احتجاج کا طریقہ نہیں ہے ۔ ویسے بھی قومی سلامتی کے ایجنڈے پر کسی کے ذاتی یا سیاسی ایجنڈے کو ترجیح نہیں دی جاسکتی ۔اس وقت پاکستان بیرونی جارحیت کا سامنا کررہا ہے جس میں پاکستان کا ازلی دشمن انڈیا شامل ہے افغانستان کی سرزمین اور افغانستان کے لوگ اس جارحیت میں اس دہشت گردی کی جو جنگ ہے اس میں استعمال ہورہے ہیں ان تمام چیزوں کو سامنے رکھتے ہوئے متعدد مرتبہ سمجھایا بھی گیا کہ افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال نہ ہونے دے اور اس حوالے سے ان کے ساتھ آخری حد تک بات چیت کی کوشش کی گئی ہے اور یہ کوشش صرف پاکستان نے ہی نہیں کی پاکستان کے دوست ممالک چین ترکی قطر بالخصوص سعودی عرب نے بھی کی لیکن اس کے باوجود کے پی کے 12 اضلاع میں ٹی ٹی پی اپنی سرگرمیاں جاری رکھے رہی جس میں کچھ فاٹا کے علاقے ہیں اس کے علاوہ لکی مروت کرک اور ڈیرہ اسماعیل خان بھی اس میں شامل رہے اور صورتحال یہ ہوگئی کہ صرف دن میں کے پی حکومت کی رٹ نظر آتی رات میں بالکل بھی نہیں ہوتی یہی وہ صورتحال تھی جس کو دیکھتے ہوئے پاکستان کی لاء انفورسمنٹ نے پاکستان کی حکومت کے ساتھ مل کر انتہائی جرات کے ساتھ اور حب الوطنی کے ساتھ لڑا ہے ۔اس میں تحریک انصاف کا قصور رہا ہے کہ ہماری افواج نے جو قربانیاں دی ہیں۔
اہم خبریں سے مزید