کراچی (نیوز ڈیسک) کاکروچ تحریک رہنما رہا، احتجاج جاری، اقوام متحدہ کا گرفتاریوں پر اظہارِ تشویش، ووٹر فہرست تبدیلیوں سے BJP کو فائدہ، مسلمان و دیگر اقلیتیں متاثر، مظاہرین چیف الیکشن کمشنر استعفے پر ڈٹ گئے۔ اقوام متحدہ کا پُرامن اجتماع کے حق کے احترام پر زور، بھارت نے بیان کو اندرونی معاملات می مداخلت قرار دیدیا۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں متنازع ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے خلاف نوجوانوں کے احتجاج کا سلسلہ اتوار کو دوسرے روز بھی جاری رہا، جبکہ عدالت نے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی ابھجیت ڈپکے اور دو دیگر رہنماؤں کی رہائی کا حکم دے دیا۔ ہفتے کو احتجاج روکنے کے لیے پولیس نے 2 ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا تھا، جن میں سے بیشتر کو رات گئے رہا کردیا گیا۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں اور الزام عائد کرتے ہیں کہ ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں سے وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچ رہا ہے، جبکہ مسلمان اور دیگر اقلیتیں اس عمل سے غیرمتناسب طور پر متاثر ہورہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے بڑے پیمانے پر گرفتاریوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے پُرامن اجتماع کے حق کے احترام اور مظاہرین کے خدشات دور کرنے کے لیے بامعنی مذاکرات پر زور دیا، تاہم بھارتی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کے بیان کو اندرونی معاملات میں غیرضروری مداخلت قرار دیا۔ الیکشن کمیشن اور بی جے پی نے انتخابی عمل میں جانبداری اور ردوبدل کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی معمول کی کارروائی ہے۔