• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گورنر راج اور ایمرجنسی مسائل کا حل نہیں، حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے، حافظ نعیم

لاہور(نمائندہ خصوصی) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی مخالفت کرتے ہیں یہ مسائل کا حل نہیں، حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے،PP اور ن لیگ کی تاریخ گورنر راجوں سے بھری ہے،وزیراعظم پٹرولیم لیوی ختم نہ کی تو ملتان سے لانگ مارچ کا آغاز ہوجائے گا۔امیر جماعت اسلامی نے خیبر پختونخوا میںگورنر راج و ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے پرایکس پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ جب منصب اقتدار پر فائز قوتیں گورنر راج اور ایمرجنسی کے ذریعے حکومت کرنے کی کوشش کریں تو صاف مطلب ہے کہ ان کی حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے۔حافظ نعیم نے کہا کہ پی ڈی ایم جماعتوں نے رجیم چینج کے وقت سے جو تماشا شروع کیا ہے آج تک جمہوریت دشمنی کا یہ سفر جاری ہے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی تاریخ گورنر راجوں اور مینڈینٹ تسلیم نہ کرنے سے بھری ہے۔حافظ نعیم نے کہا کہ واضح ہوچکا کہ فارم 47 کے ذریعے مسلط کردہ یہ نظام پوری طرح فلاپ ہوگیا ہے۔نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے اپنے بیان میں کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ بڑی غلطی ہے، اس سےسیاسی بحران مزید گھمبیر ہوگا۔قبل ازیں اوکاڑہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئےحافظ نعیم نے کہا کہ ن لیگ، پی پی نے مل کر عوام دشمنی کی ہے اور جمہوریت پر شپ خون مارا ہے، خیبر پختونخوامیں گورنرراج کے فیصلہ کو فوری واپس لیا جائے۔ آج منصورہ میں مشاورت ہوگی ، لانگ مارچ سے متعلق اہم فیصلے کیے جائیں گے، وزیراعظم شہباز شریف نے پٹرولیم لیوی ختم نہ کی تو ملتان سے لانگ مارچ کا آغاز ہوجائے گا، ہمارے مطالبات واضح ہیں، فیصلہ حکومت کے ہاتھ میں ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی حکومت کے خاص کمپوننٹ (Component ) ن لیگ ، پی پی نے کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگا کر اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے ، حکومت اگر سمجھتی ہے کہ اس سے مسئلہ حل ہوجائے گا تو ماضی گواہ ہے ایمرجنسیاں لگانے سے مسائل ختم نہیں ہوتے۔ مطالبہ کرتے ہیں یہ گورنر راج فوری طور پر ختم کرکے مذاکرات کی میز سجائی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پی پی اور ن لیگ اسٹیبلشمنٹ کی گود میں پروان چڑھیں ۔یہ دونوں پارٹیاں جمہوریت کے نام پر کلنک کا ٹیکہ ہیں، انہوں نے آج پھر کالک اپنے چہرے پر مل لی ہے۔ پی پی نے مشرف سے این آر او لیا ، ماضی میں آصف زرداری نے ہنجاب میں گورنر راج لگایا۔ پی ڈی ایم نے خریدوفرخت کرکے رجیم تبدیل کیا۔تحریک انصاف کی حکومت ختم ہونے کے بعد پی ڈی ایم آئی ہھر پی ڈی ایم ٹو آئی ۔ پی پی نے کراچی کے مینڈیٹ کو روندا۔ مقتدرہ نے ایم کیو ایم کو بغیر جیتے کراچی میں پندرہ اور بلاول کو سات سیٹیں دیں۔ پی پی نے بلدیاتی انتخاب میں جماعت اسلامی کے مینڈیٹ کو چرا کر اپنا میئر بنایا۔ پی پی کا پاکستان توڑنے میں کردار ہے، ایوب خان سے لے کر بلوچستان میں فوجی آپریشن تک سب کو پی پی کی تاریخ کا علم ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ن لیگ چالیس سال سے پنجاب پر مسلط ہے، انہوں نے تعلیم ، صحت ، زراعت کو تباہ کردیا۔ گندم کسانوں سے تین ہزار من سے بھی کم قیمت پر خریدی گئی ، آج گندم ساڑھے پانچ ہزار من ہے ، آٹا ساڑھے چھ ہزار روپے من ہے، مریم نواز کی حکومت نے کسان اور عوام کو برباد کردیا ہے۔ خاندانوں کی حکومتوں اور انہیں لانے والوں نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا، آج کہا جاتا ہے کہ سسٹم نہیں چل رہا، سسٹم نہ چلنے والوں سے پوچھتا چاہتا ہوں یہ سسٹم کون لے کر آیا ہے؟ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ عوام کے مسائل پر پاکستان میں کوئی آواز نہ تھی، جماعت اسلامی نے عوام کے مسائل پر آواز بلند کی اور اسے مضبوط تحریک کے قالب میں ڈھال دیا۔ کارکنوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ آج ملک کا بچہ بچہ سمجھ گیا ہے کہ لیوی بھتہ کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اہم خبریں سے مزید