اسلام آباد (نیوز رپورٹر)نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ریاض ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ اس میں چھ پاکستانی شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔ اسحاق ڈار نے سعودیہ سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مملکت کی خودمختاری‘ علاقائی سالمیت اور سلامتی کیلئے پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اپنے عزم پر مضبوطی سے کاربند ہےجبکہ ترجمان دفترخارجہ کاکہنا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے شہری آبادی اور اہم بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنانا قطعی طور پر ناقابل قبول ہے ‘ وزیر اعظم شہباز شریف نے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ شہریوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملے کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں‘مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کہ حرمت کی حفاظت اربوں مسلمانوں کی ذمہ داری ہے‘ یہ ہماری ریڈ لائن ہے‘سعودی عرب کے خلاف کسی جارحیت کو برداشت نہیں کریں گے‘ہرمز کے بعدمندب میں خونی کھیل کھیلا جارہاہے ‘چاہتے ہیں کہ معاملہ امن کے ساتھ طے پائے ورنہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرے گا۔ اتوار کو سوشل میڈیا پرجاری بیان میں شہبازشریف کا کہناتھاکہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی پر مبنی ایسے پرتشدد اقدامات فوری طور پر بند ہونے چاہئیں‘پاکستان سعودی عرب‘ اس کی قیادت اور برادر عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے‘ مکہ دفاعی معاہدے اور دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کے تحت ہم سعودی عرب کی خودمختاری‘ علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہیں‘علاوہ ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے زخمیوں، جن میں چھ پاکستانی شہری بھی شامل ہیں، کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے‘انہوں نے کہا کہ شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملے کسی صورت قابل قبول نہیں‘ یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں‘ ایسی کارروائیاں فوری طور پر بند ہونی چاہئیں‘ہم سعودی حکام سے رابطے میں ہیں اور صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مزیدبرآں اتوار کو جاری بیان میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ شہری املاک اور ہوائی اڈوں پر حملہ دہشت گردی اور علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔پاکستان سعودی عرب کی خود مختاری کے تحفظ کے عزم پر قائم ہے۔ شہریوں اور انفرسٹرکچر پر حوثی ملیشیا کا حملہ ناقابلِ قبول ہے اور اس کی عالمی سطح پر مذمت کی جانی چاہیے۔پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے اور حوثی ملیشیا پر زور دیتا ہے کہ اس نوعیت کے حملے فوری طور پر روکے۔