سانگھڑ ( محمد مبین بھٹی/ نامہ نگار ) ضلع سانگھڑ سمیت سندھ بھر میں فیل ہونے والے سات ہزار 500 امیدواروں کو سندھ بار کونسل کی جانب سے وکالت کے لائسنس جاری کرنے کا انکشاف، مجموعی طور پر تین ارب 75 کروڑ کی مبینہ کرپشن کا الزام، تحقیقات کا مطالبہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اسلام آباد کی جانب سے ایل ایل بی پاس امیدواروں کیلئے بار کونسل میں بطور وکیل انرولمنٹ کیلئے لاء گیٹ (LAW-GAT) ٹیسٹ پاس کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ تاہم سینیئر ایڈووکیٹ محمد قذافی تنولی سابقہ سیکرٹری اطلاعات اور ایڈووکیٹ راؤ وسیم اختر سابقہ سیکرٹری لائبریری ڈسٹرکٹ بار ایسوسییشن سانگھڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ضلع سانگھڑ سمیت صوبہ سندھ میں تقریباً 7500سے زائد ایسے ایل ایل بی امیدوار جنہوں نے لاء گیٹ ٹیسٹ میں فیل ہونے کے باوجود مبینہ طور پر غیر قانونی طریقوں سے سندھ بار کونسل سے لوئر اور ہائی کورٹ کے لائسنس حاصل کرکے صوبہ بھر کی مختلف بار ایسوسی ایشنز میں ممبر شپ حاصل کرکے وکالت کر رہے ہیں، سینئر وکلاء کا کہنا ہے کہ اگر الزامات درست ثابت ہوں تو یہ نہ صرف وکالت جیسے مقدس پیشے کی ساکھ پر حملہ ہے بلکہ آرٹیکل 129(جی) قانونی شہادت کے تحت محفوظ تحویل اور ریکارڈ کی عدم موجودگی پورے نظامِ انصاف پر سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ، چیئرمین پاکستان بار کونسل اور چیئرمین ایچ ای سی سے فوری انکوائری کمیٹی تشکیل دے کر ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایچ ای سی جس امیدوار کو لاء گیٹ پاس کا سرٹیفکیٹ جاری کرتی ہے، وہی امیدوار متعلقہ بار کونسل سے بطور ایڈووکیٹ لوئر کورٹ انرولمنٹ کے لئے اہل تصور کیا جاتا ہے۔تاہم باوثوق ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ضلع سانگھڑ سمیت صوبہ سندھ میں تقریباً 7500سے زائد ایسے ایل ایل بی امیدوار جنہوں نے لاء گیٹ ٹیسٹ میں فیل ہونے کے باوجود مبینہ طور پر غیر قانونی طریقوں سے سندھ بار کونسل سے لوئر اور ہائی کورٹ کے لائسنس حاصل کرکے صوبہ بھر کی مختلف بار ایسوسی ایشنز میں ممبر شپ حاصل کرکے وکالت کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں جب رابطہ کیا گیا تو قانون کے حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد اور سندھ بار کونسل کے ریکارڈ کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے تمام 7500 مشکوک لائسنسوں کے لاء گیٹ رزلٹ کی ایچ ای سی سے تصدیق، متعلقہ امیدواروں کی اصل فائلز کی برآمدگی اور بار کونسل سے جاری کردہ شدہ لوئر کورٹ کے جاری سرٹیفکیٹ و اندراج رجسٹروں کی جانچ پڑتال کی جائے۔ سینئر وکلاء کا کہنا ہے کہ اگر الزامات درست ثابت ہوں تو یہ نہ صرف وکالت جیسے مقدس پیشے کی ساکھ پر حملہ ہے بلکہ آرٹیکل 129(جی) قانونی شہادت کے تحت محفوظ تحویل اور ریکارڈ کی عدم موجودگی پورے نظامِ انصاف پر سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے چیف جسٹسسندھ ہائی کورٹ، چیئرمین پاکستان بار کونسل اور چیئرمین ایچ ای سی سے فوری انکوائری کمیٹی تشکیل دے کر ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔