کراچی( اسٹاف رپورٹر)عوام پاکستان پارٹی کے صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدم جمہوریت آئین اور صوبے کے عوامی مینڈیٹ کی مکمل نفی ہے۔ پاکستان کی موجودہ معاشی، سیاسی اور سکیورٹی صورتحال میں اس نوعیت کا غیر جمہوری فیصلہ ملک کے لیے مزید خطرات پیدا کرے گا۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ امر مزید تشویش ناک اور شرمناک ہے کہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی، جو بظاہر جمہوری روایات کی دعویدار ہیں، اس قدم کے عمل درآمد میں شریک ہیں۔ خیبر پختونخواہ میں امن عامہ کی صورتحال اور بیرونی دہشتگردی پر قابو پانا ازحد ضروری ہے لیکن جمہوری نظام میں سیکیورٹی، سیاسی اور انتظامی مسائل کا حل آئینی، پارلیمانی اور جمہوری طریقۂ کار کے ذریعے تلاش کیا جاتا ہے۔ اگر وفاقی حکومت کے پاس خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حق میں ٹھوس وجوہات اور شواہد موجود ہیں تو اسے چاہیے تھا کہ وہ اپنا مؤقف پاکستانی عوام کے سامنے پیش کرتی، پارلیمان میں تفصیلی بحث کرواتی اور عوامی تائید حاصل کرتی۔ اقتدار کے زعم میں شہری آزادیاں سلب کرنا اور دو تہائی اکثریت سے منتخب شدہ صوبائی حکومت کو بے اختیار کرنا پاکستان کے جمہوری نظام اور آئینی بالادستی کی تلخ تاریخ میں ایک اور بدنما داغ ثابت ہوگا۔عوام پاکستان اس سوچ اور اس غیر آینی قدم کی سخت مخالفت کرتی ہے اور پاکستان کی عدلیہ سے امید کرتی ہے کہ وہ آئین پاکستان کی روشنی میں ان اقدامات کی قانونی حیثیت کا تعین کرے گی۔آج جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی نفی کرنے کے بجاے ملک کو محاذ آرائی سے بچانے کے لیے سیاسی تدبر، آئینی بالادستی، پارلیمانی مشاورت اور قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے ۔