اسلام آباد (صالح ظافر) خیبر پختونخوا (کے پی کے) میں ایمرجنسی کا نفاذ اور پاکستان کی جانب سے خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر سے دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا اظہار، دنیا کے مختلف ممالک کے دارالحکومتوں میں خوش آئند اقدامات کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ اعلیٰ سفارتی ذرائع نے اتوار کی شام جنگ کو بتایا کہ اس پیش رفت کے حوالے سے کسی بھی ملک نے باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ وفاقی دارالحکومت میں موجود سفارتی برادری خاموشی سے ان اقدامات کا جائزہ لے رہی ہے جو میزبان ملک پاکستان نے اپنے عوام کے مفاد میں اٹھائے ہیں۔ ذرائع نے بتایا، ’’گزشتہ ماہ ایک سیاسی گروہ کی جانب سے احتجاجی سرگرمیوں کے پیشِ نظر سفارت کاروں کو یہاں اپنی نقل و حرکت اور میل جول کے حوالے سے احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ تاہم، حالیہ کارروائی کے تناظر میں کوئی نئی ہدایت جاری نہیں کی گئی۔‘‘ ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومت کا فی الحال متعلقہ کارروائی کے بارے میں سفارت کاروں کو بریفنگ دینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔