پشاور، سوات (نیوز ایجنسی، نمائندہ جنگ) خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے پر مسلم لیگ (ن) ، مسلم لیگ (ق)اور پیپلز پارٹی کی جانب سے صوبے کے مختلف اضلاع میں جشن منایا گیا ، مٹھائیاں تقسیم کی گئیں اورآتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا ۔ایبٹ آباد میں مسلم لیگ (ن) خواتین کی جانب سے جشن منایا گیا اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ تیمر گرہ میں پیپلز پارٹی کا جشن ،مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ شہریوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے ’یومِ نجات‘ قرار دیا ہے اور خوشی میں مٹھائیاں تقسیم کی ہیں۔رپورٹ کے مطابق پشاور، مردان، صوابی، ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں سمیت صوبے کے تمام بڑے شہروں میں معمولاتِ زندگی اور کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر جاری ہیں، جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی روانی بھی معمول کے مطابق برقرار ہے۔ شہریوں نے افواہوں اور پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے اپنے روزمرہ کام کاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔چترال اور دیگر علاقوں کے شہریوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے پر طویل عرصے سے نااہل اور بدعنوان قیادت قابض تھی، جس نے عوامی ترقیاتی فنڈز کو صوبے کی بہتری کے بجائے دھرنوں اور انتشار پر خرچ کیا، جس کی وجہ سے صوبہ پسماندگی کا شکار ہوا۔ شہریوں نے ایمرجنسی کے نفاذ پر اظہارِ اطمینان کرتے ہوئے سڑکوں اور بازاروں میں مٹھائیاں تقسیم کیں اور کہا کہ آج کا دن صوبے کو بدانتظامی اور انتشار کی سیاست سے نجات ملنے کا دن ہے۔پاکستان مسلم لیگ (ق) کے پبلک سیکرٹریٹ بورے والا میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے معاملے پر کارکنان میں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ پاکستان اور پاک فوج کے حق میں نعرے بازی کی گئی۔ایبٹ آبادمیں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر مسلم لیگ (ن) کی خواتین ونگ کا جشن، مٹھائیاں تقسیم کیں۔پاکستان مسلم لیگ (ق) کے پبلک سیکرٹریٹ بورے والا میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے معاملے پر کارکنان میں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ پاکستان اور پاک فوج کے حق میں نعرے بازی کی گئی ۔اس موقع پر مسلم لیگ (ق) کے ضلعی صدر چوہدری صدیق یوسف نے کہا کہ ملک دھرنوں اور لانگ مارچ کا متحمل نہیں ہو سکتاخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ بروقت اقدام ہے۔