• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومت نے وعدہ خلافی کی، گورنر راج، ایمرجنسی مسترد کرتے ہیں، فضل الرحمٰن

اسلام آ باد (رانا غلام قادر)ا میر جے یو آئی مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ حکومت نے وعدہ خلافی کی، وفاقی حکومت کے صوبہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں، یہ جمہوریت پر شب خون ہے، ہم عوام سے رابطہ کریں گے، پارلیمنٹ ہاؤس میں اپنا کردار ادا کریں گے، عدالت میں سب جگہ جائیں گے،ہم آئینی حقوق کی بحالی کی جدوجہد کریں گے، اس غیر آئینی اقدام کے سامنے ایک لمحے کے لئے جھکنے کے لئے تیار نہیں۔ انہوں نے یہ بات اتوار کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ میں پچھلے چند روز میں مذاکراتی عمل بارے بتانا چاہتا ہوں، سات اکتوبر کو میں عمرے سے واپس آیا، اپوزیشن لیڈر سینیٹ سمیت اپوزیشن قائدین آئے مجھے کردار ادا کرنے کو کہا،اگلے روز سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور وفاقی وزرا میرے پاس آئے وفاقی وزرا نے مجھے کردار ادا کرنے کی درخواست کی،پی ٹی آئی لانگ مارچ میں تھی،ہمارے کہنے پر پی ٹی آئی نے لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف موڑنے کا اعلان نہیں کیا ،حکومتی وفد آیا توایمر جنسی موخر کی گئی ، وزیر اعظم نے مجھے ٹیلی فون کیا میں نے دوستوں سے مشورہ کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھے لگتاتھاکہ حکومت فیصلے کرچکی،میرے ساتھیوں نے پھر بھی مجھے وزیر اعظم کے پاس جانے کی تجویز دی،میں وزیر اعظم ہاؤس گیا ،حکومت نے صاف کہا کہ پہلے لانگ مارچ ختم کیا جائے، پی ٹی آئی کا مطالبہ تھا عمران خان سے ملنے دیا جائے، انہیں ہسپتال لے جانے کے عدالتی فیصلے پر عمل کیا جائے، دونوں پہلے آپ پہلے آپ کی بات کررہے تھے ،میں نے دونوں کو مجھے ثالث اور فیصلے کا اختیار دینے کا کہا ،میں نے وزیراعلی سہیل آفریدی کو بھی اعتماد میں لینے کا کہا ،کانفرنس کال پر سہیل آفریدی بیرسٹر گوہر اسد قیصر سب نے بات کی،میں نے لانگ مارچ ختم کرنے کیلئے پوچھا ،سہیل آفریدی نے کہا کہ مطالبات تسلیم کرلیں ہم لانگ مارچ ختم کردیں گے گزشتہ روز صبح وزیر اعظم ہاؤس گیا وزیر اعظم سے کہا کہ وہ لانگ مارچ ختم کرنے کو تیار ہیں، آپ وعدہ کریں کہ عمران سے ملاقات اور علاج دیا جائے گا۔وزیر اعظم نے مجھے کہا کہ کابینہ اجلاس شام کو بھی ہوسکتا ہے ،میں پشاور جاکر سہیل افریدی سمیت دیگر سے بات کرنا چاہتا تھا، میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن سےدو دو رہنما لیکربات چیت اپنی نگرانی میں آگے بڑھانا چاہتا تھا ،نائب وزیر اعظم اسحق ڈار نے کابینہ اجلاس سے مجھے فون کیا،مجھے کہا گیا کہ کا بینہ میں کہا جا رہا ہے کہ کہ دہشتگردی کی وجہ سے گورنر راج یاایمرجنسی لگائی جائے، میں نے اسحق ڈار سے کہا کہ بلوچستان میں تو حالات کے پی کے سے بھی خراب ہیں وہاں کیوںگورنر راج کیوں نہیں لگایا گیا۔

اہم خبریں سے مزید