حیدرآباد (بیورو رپورٹ) سندھ ترقی پسند پارٹی کی میزبانی میں حیدرآباد میں سندھ میری ماں کے عنوان سے قومی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں سیاسی، قوم پرست اور مذہبی رہنماں، ادیبوں اور دانشوروں نے شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے سندھ کی وحدت، وسائل اور صوبائی خودمختاری کے تحفظ پر زور دیا اور کہا کہ نئے صوبے یا انتظامی یونٹ بنانے کے بجائے عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں اور صوبوں کو ان کے آئینی حقوق دیے جائیں۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ سندھ اسمبلی کی جانب سے سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور کرنا ایک اچھا قدم ہے، تاہم وفاقی حکومت کو بھی اس معاملے پر اپنا مقف واضح کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام پاکستان میں برابری کی بنیاد پر رہنا چاہتے ہیں، غلامی کی بنیاد پر نہیں۔ ڈاکٹر قادر مگسی نے سندھ کی وحدت کے تحفظ کے لیے 29 نومبر کو کراچی میں بڑے احتجاجی اجتماع کے انعقاد کا اعلان بھی کیا۔جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا راشد محمود سومرو نے کہا کہ سندھ کی تقسیم اور صوبے کے وسائل پر قبضے کی کوششیں برداشت نہیں کی جائیں گی۔سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے صوبوں کو خودمختاری دینے اور سندھ کو قومی مالیاتی ایوارڈ (این ایف سی) میں اس کا جائز حصہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹ بنانے کے بجائے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں۔کانفرنس میں پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو، سینیٹر عاجز دھامراہ، مولا بخش چانڈیو، سینیٹر ثنا اللہ بلوچ، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے رہنما صفدر عباسی اور دیگر سیاسی رہنماں نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر سینیٹر مشاہد حسین سید، خواجہ سعد رفیق اور معروف صحافی حامد میر کے ویڈیو پیغامات بھی پیش کیے گئے، جن میں کانفرنس کے موضوع سے متعلق اظہارِ خیال کیا گیا۔ ہم پختہ عہد کرتے ہیں کہ سندھ کے خلاف اور پاکستان کے لیے نقصان دہ تمام پالیسیوں کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ نئے صوبوں کا قیام اور نئے انتظامی یونٹس بنانا بنیادی طور پر ایک ہی بات ہے۔ ہم نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ انتظامی، سیاسی اور معاشی اختیارات حقیقی اور مو¿ثر انداز میں وفاق سے صوبوں اور صوبوں سے مقامی حکومتوں کو منتقل کیے جائیں۔ ملک بھر میں بے چینی اور عدم اطمینان کے خاتمے کے لیے اختیارات کی اس منتقلی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ ہم مزید مطالبہ کرتے ہیں کہ بدعنوانی اور اقربا پروری کا خاتمہ کیا جائے۔ بدعنوانی میں ملوث افراد اور اداروں کے خلاف عدالتوں کے ذریعے سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ انصاف کے اعلیٰ ترین معیار قائم کیے جائیں اور میرٹ پر مبنی حکمرانی بحال کی جائے۔یہ اسمبلی مطالبہ کرتی ہے کہ ملک کے اشرافیہ اور مراعات یافتہ طبقوں کو مختلف صورتوں میں دی جانے والی سبسڈیز، رعایتیں اور خصوصی مراعات فوری طور پر ختم کی جائیں۔