کراچی (نیوز ڈیسک) تحفے تحائف کی سفارت کاری بھی بنگلہ دیش، بھارت اختلافات ختم کرنے میں ناکام، بنگلہ آم، مچھلی اور ساڑھیوں کے تحائف اور ثقافتی قربت کے باوجود ڈھاکا اور نئی دہلی کے درمیان بداعتمادی برقرار، شیخ حسینہ حوالگی اور دریاؤں کے پانی کا تنازع حل طلب، طارق رحمان کا دورۂ بھارت نہ ہونا اختلافات کی علامت، میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش کی جانب سے آم، ہلسا مچھلی، روایتی کپڑوں اور ساڑھیوں کے تحائف کے ذریعے بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں سیاسی اختلافات ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ بنگلہ دیش نے جولائی 2024 کی عوامی تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد بھارت کے ساتھ کشیدگی کم رکھنے کے لیے ثقافتی سفارت کاری کا سہارا لیا، تاہم شیخ حسینہ کی حوالگی، سرحدی انتظامات، تجارتی عدم توازن، مشترکہ دریاؤں کے پانی کی تقسیم اور علاقائی سلامتی جیسے اہم معاملات بدستور حل طلب ہیں۔ بنگلہ دیش نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک ہزار کلوگرام اعلیٰ معیار کے ہری بھنگا آم بھی بھیجے تھے، لیکن اس اقدام سے بنیادی سیاسی مسائل حل نہیں ہوئے۔ نئی دہلی میں بنگلہ دیشی ساڑھیوں اور روایتی دست کاری کی نمائشوں کو بھی پذیرائی ملی، تاہم ثقافتی روابط سیاسی اتفاق رائے میں تبدیل نہ ہوسکے۔ بنگلہ دیشی وزیر اعظم طارق رحمان کا بھارت کا دورہ نہ ہونا بھی دونوں ملکوں کے تعلقات میں موجود تعطل کی عکاسی کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ثقافتی اقدامات نے دونوں ملکوں کے درمیان رابطوں کے دروازے کھلے رکھنے میں مدد دی، لیکن تعلقات کی حقیقی بحالی کے لیے خودمختاری، باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر سنجیدہ سیاسی مذاکرات ناگزیر ہیں۔