کراچی (ٹی وی رپورٹ) ماہرین قانون حافظ احسان اور حسن رضا پاشا نے کہا ہے کہ آئینی تقاضے پورے کرکے ایمرجنسی نافذ کی گئی، چیلنج کا حق حاصل ہے۔ماہر قومی سلامتی امور سید محمد علی نے کہا کہ ملکی استحکام کیلئے ایمرجنسی ناگزیرتھی۔ سینئر صحافی ،تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا کہ گورنر کیلئے امن و امان بحال کرنا بڑا چیلنج ہوگا۔ وہ جیو نیوز کی خصوصی نشریات میں گفتگو کررہے تھے۔ تفصیلات کے مطابق جیو نیوز سے گفتگو میں ماہر قانون حارث عظمت نے کہا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکلز 234,232اور 235کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ کا اختیار صدر پاکستان سے متعلق ہے جنہیں آئینی تقاضوں کے مطابق یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ آیا ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کیلئے درکات حالات موجود ہیں یا نہیں۔تمام صوبے آئین پاکستان کا حصہ ہیں اور امن و امان کی صورتحال خراب ہونے پر وفاقی حکومت محدود مدت اور مخصوص مقاصد کیلئے مداخلت کرسکتی ہے ۔تمام آئینی تقاضے پورے کرکے فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ صوبائی حکومت کو اسے وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کرنے کا حق حاصل ہے۔۔ماہر قانون حسن رضا پاشا نے کہا کہ صوبائی حکومت ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر آئینی قرار نہیں دے سکتی اور آرٹیکل 233کے تحت بنیادی حقوق کی معطلی اور ایمرجنسی میں توسیع کیلئے پارلیمانی طریقہ کار اہم ہے۔توسیع کے معاملے پر پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن کو اپنا موقف پیش کرنا چاہئے جبکہ اس عمل کیلئے 10دن کی ڈیڈلائن مقرر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کے آئینی طریقے عدم اعتماد یا استعفیٰ ہیں ۔وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کی گئی اسیسمنٹ اور ریکارڈ کو صدر مملکت کے سامنے متعلقہ حالات کے جائزے کیلئے پیش کیا جاسکتا ہے تاہم یہ ریکارڈ آرٹیکل 48کی شق 1کے تحت صدر مملکت کیلئے لازمی اور پابندی نہیں ہے۔ پاکستان کا آرٹیکل 149اس معاملے میں واضح ہے کہ وفاقی حکومت قومی سلامتی،امن و امان اور وفاقی اختیارات کے تحفظ کیلئے صوبائی حکومت کو ضروری ہدایات دے سکتی ہے اور گزشتہ دو سال سے کے پی کے حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کی ہدایات پر عمل درآمد کے حوالے جو صورتحال رہی ہے اس کا جائزہ آج پیش کی گئی رپورٹ میں لیا گیا ہے۔ماہر قانون نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو دہشت گردی کیخلاف جنگ کیلئے 800ارب روپے فراہم کیے جانے کے باوجود صوبے میں سی ٹی ڈی اور پولیس کی حالت دیکھ لیں۔وفاقی حکومت نے دہشت گردی کیخلاف مذاکرات میں مولانا فضل الرحمان کو بھی شامل کیا تاہم کے پی صوبائی حکومت ون پوائنٹ ایجنڈے پر متفق نہ ہوئی۔کے پی حکومت کے بعض اقدامات اور پولیس ایکٹ سے متعلق معاملات پر بھی تحفظات ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 234کے تحت اقدامات کیے جاتے ہیں تو صوبائی حکومت کے اختیارات گورنر کومنتقل کیے جاسکتے ہیں جو آئینی طریقہ کار کے مطابق ان اختیارات کو استعمال کرینگے۔۔ماہر قومی سلامتی امور سید محمد علی نے جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی سلامتی کی صورتحال کا بغور جائزہ لیں اور خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے دہشت گردی کیخلاف بروقت اقدامات نہ کرنا ایمرجنسی کے نفاذ کی بنیادی وجوہات میں شامل ہے جبکہ انہوں نے اس اقدام کو ملکی استحکام اور سلامتی کیلئے اہم قرار دیا۔۔سینئر صحافی ،تجزیہ کار سلیم صافی کا کہنا تھا کہ متاثرہ قبائلی اضلاع اور دہشت سے متاثرہ علاقوں کیلئے الگ سیکریٹریٹ قائم کرنے کی تجویز ہے جبکہ گورنر کی معاونت کیلئے وزرا کی ٹیم میں ایڈوائزرز شامل کیے جائیں گے۔سلیم صافی کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اور گورنر کیلئے امن و امان بحال کرنا بڑا چیلنج ہوگا جبکہ اس اقدام سے سیاسی طور پر پی ٹی آئی کو فائدہ اور مظلومیت کا بیانیہ مضبوط کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔