• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برآمدات میں نمایاں کمی، بحران مزید سنگین ہونے کا اندیشہ، خرم مختار

فیصل آباد (شہباز احمد) پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے پیٹرن چیف خرم مختار نے خبردار کیا ہے کہ مالی سال 27۔2026کی دوسری سہ ماہی کے دوران برآمدات میں نمایاں کمی کا اندیشہ ہے جس سے برآمدی شعبے کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ انہوں نے وزارتِ تجارت، وزارتِ خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت اعلان کردہ شرح سود پر فوری عمل درآمد یقینی بنایا جائے، فنڈز کی تقسیم کے معیار پر بلا تاخیر نظرثانی کی جائے، حقیقی ویلیو ایڈڈ برآمد کنندگان کو ترجیح دی جائے اور صنعت سے مشاورت کے ذریعے برآمدات کے فروغ کے لیے ایک طویل مدتی روڈ میپ تیار کیا جائے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مغربی منڈیوں میں بلند افراطِ زر کے باعث خریداروں کی طلب میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ سمندری راستے سے مال برداری کے اخراجات میں ڈیڑھ سے ڈھائی گنا تک اضافہ ہو چکا ہے جس کی وجہ سے پہلے ہی محدود منافع مزید کم ہو رہا ہے۔ دوسری جانب خام مال، پیداواری لاگت اور لاجسٹکس کے اخراجات میں اضافے نے پاکستانی برآمدات کو عالمی منڈی میں غیر مسابقتی بنا دیا ہے۔ برآمدی تجارت کے حجم میں اس نوعیت کی کمی غیر معمولی ہے اور ایک مرتبہ عالمی منڈی میں اپنا حصہ کھو دینے کے بعد اسے دوبارہ حاصل کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ مہنگائی کے باعث مقامی طلب میں بھی کمی واقع ہوئی ہے جس سے ٹیکسٹائل کی پوری ویلیو چین کو بیک وقت دوہرا نقصان پہنچ رہا ہے اور کپاس کی جننگ، ویونگ، اسپننگ، پروسیسنگ اور نٹنگ کے شعبے بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ برآمد کنندگان کو عالمی منڈیوں میں اپنا حصہ برقرار رکھنے میں مدد دینے کے لیے عارضی طور پر چھ سے آٹھ فیصد کی شرح سے ڈیوٹی اور ٹیکسز کا ڈرا بیک فراہم کیا جائے۔ اس کے علاوہ مختلف مدات میں واجب الادا ریفنڈز کی فوری ادائیگی کی جائے اور توانائی کے نرخوں میں شامل کراس سبسڈیز کو بھی فوری ختم کیا جائے۔ خرم مختار نے ایکسپورٹ فنانس اسکیم میں سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مالی سال 2026-27 کے فنانس بل میں اسکیم کی شرح سود 4.5 فیصد مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوا اور بینک کم از کم 5.5 فیصد شرح وصول کر رہے ہیں جبکہ بعض بینک اب بھی 8.5 فیصد تک شرح سود وصول کر رہے ہیں۔یارن برآمد کنندگان کو ایکسپورٹ فناس اسکیم کے تحت تقریباً 200 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید