• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سانحۂ کارساز کی 19 ویں برسی پر خصوصی کالم

تحریر…سعدیہ جاوید(ایم پی اے)
زندگی میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ یادوں سے محو نہیں ہوتے بلکہ دل و دماغ پر اور گہرے نقش چھوڑ جاتے ہیں۔ 18 اکتوبر 2007 بھی میری زندگی کا ایک ایسا ہی دن ہے۔ آج اس واقعے کو انیس برس بیت چکے ہیں، لیکن جب بھی اکتوبر کا مہینہ آتا ہے، میری یادیں ایک بار پھر دبئی کے ہوائی اڈے، کراچی کی سڑکوں اور کارساز کی اس قیامت خیز رات کی طرف لوٹ جاتی ہیں۔
میں خود کو خوش نصیب سمجھتی ہوں کہ مجھے اس تاریخی سفر میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ دبئی سے کراچی آنے والے اسی طیارے میں سفر کرنے کا موقع ملا۔ وہ محض ایک فضائی سفر نہیں تھا بلکہ ایک طویل جلاوطنی کے بعد اپنی دھرتی، اپنے عوام اور اپنی سیاسی جدوجہد کی طرف لوٹنے کا سفر تھا۔ اس روز ہم سب ایک ایسے تاریخی لمحے کا حصہ بن رہے تھے جس کی اہمیت کا احساس تو تھا، لیکن یہ اندازہ ہرگز نہیں تھا کہ چند گھنٹوں بعد کراچی کی سرزمین پر خوشیوں کا یہ سمندر خون میں نہلا دیا جائے گا۔
محترمہ بے نظیر بھٹو آٹھ برس سے زائد عرصے کی جلاوطنی کے بعد پاکستان واپس آ رہی تھیں۔ ان کی وطن واپسی ایک ایسے وقت میں ہو رہی تھی جب ملک آمریت، دہشت گردی، سیاسی بے یقینی اور جمہوری اداروں کی کمزوری جیسے سنگین مسائل سے دوچار تھا۔ انہیں اپنی جان کو لاحق خطرات کا بھی علم تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ وہ سمجھتی تھیں کہ قوموں کی تقدیر کا فیصلہ خوف کے سامنے سر جھکا کر نہیں بلکہ عوام کے درمیان کھڑے ہو کر کیا جاتا ہے۔
دبئی سے کراچی کی وہ پرواز میرے لیے آج بھی ایک ناقابلِ فراموش یاد ہے۔ ایک طرف اپنی قائد کی وطن واپسی کی خوشی تھی، دوسری طرف ایک نئے جمہوری دور کی امید۔ اس سفر میں صرف مسافر نہیں تھے، بلکہ بے شمار خواب اور توقعات بھی ہمارے ساتھ محوِ سفر تھیں۔ سب کی نظریں کراچی پر لگی ہوئی تھیں جہاں لاکھوں لوگ اپنی قائد کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب تھے۔
جب محترمہ بے نظیر بھٹو کا طیارہ کراچی کی سرزمین پر اترا اور وہ وطن کی مٹی پر قدم رکھتے ہی فرطِ جذبات سے آبدیدہ ہوئیں تو وہ منظر پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک یادگار باب بن گیا۔ یہ کسی سابق وزیراعظم کی عام وطن واپسی نہیں تھی۔ یہ ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی کی واپسی تھی، جس نے اپنے والد کی پھانسی، بھائیوں کی موت، قید و بند، سیاسی انتقام اور طویل جلاوطنی کے باوجود جمہوریت کا پرچم سرنگوں نہیں ہونے دیا تھا۔
کراچی نے اس روز محبت کی ایک ایسی تاریخ رقم کی جس کی مثال کم ملتی ہے۔ شاہراہِ فیصل انسانوں کے سمندر میں تبدیل ہو چکی تھی۔ لیاری، ملیر، لانڈھی، کورنگی، کیماڑی اور شہر کے دیگر علاقوں سے آنے والے جیالے ہی نہیں بلکہ اندرونِ سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے پہنچنے والے کارکن بھی اپنی قائد کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ ہر طرف پیپلز پارٹی کے سرخ، سیاہ اور سبز پرچم لہرا رہے تھے۔ بھٹو کے نعروں میں ایک ایسا جوش تھا جو برسوں کی جدائی اور سیاسی محرومیوں کے بعد جنم لیتا ہے۔
ان لوگوں میں مزدور بھی تھے، کسان بھی، طالب علم بھی اور وہ خواتین بھی جن کے لیے بے نظیر بھٹو صرف ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ ہمت، وقار اور خودمختاری کی علامت تھیں۔
لیکن کسی کو کیا معلوم تھا کہ اسی شہر کی سڑکیں، جہاں چند گھنٹے پہلے خوشیاں منائی جا رہی تھیں، رات کے اندھیرے میں انسانی المیے کی گواہ بن جائیں گی۔
کارساز کے مقام پر ہونے والے یکے بعد دیگرے دو خوفناک دھماکوں نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ تقریباً 180 بے گناہ انسان جان سے گئے اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ وہ کارکن جو صبح اپنے گھروں سے خوشی خوشی نکلے تھے، ان میں سے کتنے ہی واپس نہ پہنچ سکے۔ کسی ماں کا بیٹا بچھڑ گیا، کسی بیوی کا سہاگ اجڑ گیا، کسی بچے کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا۔
سانحۂ کارساز محض ایک دہشت گرد حملہ نہیں تھا۔ یہ پاکستان میں جمہوری امیدوں، سیاسی آزادی اور عوام کے حقِ انتخاب پر ایک سفاکانہ حملہ تھا۔ قاتلوں کا مقصد صرف محترمہ بے نظیر بھٹو کو نشانہ بنانا نہیں تھا بلکہ اس عوامی قوت کو خوفزدہ کرنا بھی تھا جو آمریت کے مقابلے میں جمہوریت کی بحالی کے لیے سڑکوں پر موجود تھی۔
مگر کارساز کے شہداء نے ثابت کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جدوجہد محض نعروں اور جلسوں تک محدود نہیں۔ اس جماعت کی تاریخ میں کارکنوں کی قربانیاں بھی شامل ہیں۔ ان جیالوں نے اپنی قائد اور جمہوریت سے وابستگی کی وہ قیمت ادا کی جس کا قرض قوم کبھی نہیں اتار سکتی۔
اس سانحے کے بعد بھی محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے سیاسی مشن سے دستبردار ہونے کے بجائے عوام کے درمیان رہنے کا راستہ اختیار کیا۔ پھر صرف ستر دن بعد، 27دسمبر 2007کو راولپنڈی میں انہیں شہید کر دیا گیا۔ یوں پاکستان ایک ایسی رہنما سے محروم ہو گیا جس نے اپنی زندگی جمہوریت، وفاق اور عوامی حقوق کی جدوجہد میں گزار دی۔
آج جب ہم انیس برس بعد 18 اکتوبر کے شہداء کو یاد کرتے ہیں تو یہ دن ہمارے لیے جمہوریت، عوامی حقوق اور پاکستان پیپلز پارٹی کی عظیم جدوجہد سے تجدیدِ عہد کا دن ہے۔ سانحۂ کارساز کے شہداء کی قربانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ عوام کی خدمت، غریبوں کے حقوق کا تحفظ، مزدوروں کی خوشحالی، تعلیم و صحت کی سہولیات کی فراہمی اور خواتین کو بااختیار بنانا ہی شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے مشن کی حقیقی تکمیل ہے۔ یہی وہ نظریہ ہے جس پر پاکستان پیپلز پارٹی آج بھی ثابت قدمی سے کاربند ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوامی حقوق، سماجی انصاف، صوبائی خودمختاری، جمہوری بالادستی اور خواتین کے مساوی مواقع کے لیے جدوجہد کی ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور محترمہ آصفہ بھٹو زرداری اسی عوام دوست نظریے اور عظیم قربانیوں کے وارث ہیں۔ ان کی قیادت میں اس عزم کو مزید آگے بڑھانا ہماری سیاسی اور قومی ذمہ داری ہے کہ ایک ایسا پاکستان تعمیر کیا جائے جہاں ہر شہری کو عزت، انصاف، ترقی اور خوشحالی کے یکساں مواقع میسر ہوں۔
سانحۂ کارساز کے شہداء اور ان کے اہلِ خانہ ہماری جماعت اور پوری قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی ان خاندانوں کی قربانیوں کو ہمیشہ قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ان شہداء کی یاد ہمارے لیے محض ماضی کی ایک داستان نہیں بلکہ جمہوریت، عوامی خدمت اور اپنے نظریات سے وفاداری کا وہ عہد ہے جسے ہم ہر حال میں زندہ رکھیں گے۔
ملک بھر سے سے مزید