• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پارلیمنٹ سپریم ہے تو فیصلے بھی اسی فورم پر ہونے چاہئیں، فضل الرحمٰن

لاہور (نیوزرپورٹر) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ کبھی دہشت گردی کی حمایت نہیں کی۔پارلیمنٹ سپریم ہے تو فیصلے بھی اسی فورم پر ہونے چاہئیں، کسی بھی صوبے میں گورنر راج نافذ ہوا تو وہاں بھی اختلافِ رائے کریں گے۔ یہ بے اختیار حکومت ہے اگر پی ٹی آئی دہشت گرد جماعت ہے تو پھر کیوں ان سے مذاکرات کئے ایک صوبہ میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگا تو سوال ہے اگر دہشت گردی وجہ تھی تو دہشت گردی کیا بلوچستان میں نہیں ہے پاکستان کی تاریخ میں ایمرجنسیاں پیپلز پارٹی کے کھاتے میں ہی آئی ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے گارڈن ٹائون میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے ماحول میں ڈھائی سو علماء و کارکن شہید ہوئے کسی پارٹی کی ملک کیلئے سلامتی کےلیے قربانیاں کا مذاق ہے کیا ریاست کو حق حاصل ہے یہ بات چھتی ہے ملک کے وفادار لوگوں کا مذاق اڑائیں قربانیوں کا مذاق نہیں اڑا رہے بلکہ پالیسی پر اصلاح کےلئے تنقید کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں شوق نہیں جس سے ملک میں بحث شروع ہوجائے قربانیوں کو متنازعہ نہ بنایا جائے پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے تجزیہ کریں ملک کہاں کھڑا ہے ہمیں دہشت گردی میں کیوں کامیابیاں نہیں مل رہیں ذمہ دار اداروں کو ملک یا سیاستدانوں کا مذاق نہیں اڑانا چاہئیے۔انہوں نے کہا کہ تاثر لے رہے ہیں اور میرا نام لئے بغیر بات کی جا رہی ہے ہماری پارٹی نے 73 آئین پاس ہونے کے بعد ملک بھر میں ایمرجنسی لگی اس پر ہم نے احتجاج کیا اور میرے والد نے استعفی بھی دیدیا تھا کہتے ہیں میرے بیانیہ سے موافقت نہیں رکھ رہے بیانیہ و پالیسی متقفہ بنائو اپوزیشن میں رہے ہیں کتنے مقامات پر احتجاج کیا کیا مجھے چھ ماہ جیل میں نہیں ڈالا تھا دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا گیا حکومت میری آفر قبول کریں ان کیمرہ سیشن بلائیں اور مجھے تو سمجھائو یہ قوم کو اعتماد میں کیوں نہیں لیتے۔

اہم خبریں سے مزید