• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسٹیل ٹاؤن میں لڑکے کا قتل، کزن قاتل، متنازع ویڈیو پر جھگڑا ہوا

کراچی( اسٹاف رپورٹر )اسٹیل ٹاؤن پولیس نے نوجوان کو سفاکیت سے قتل کیے جانے کے واقعہ کی مزید تفصیل جاری کر دی۔پولیس کے مطابق تھانہ اسٹیل ٹاؤن کی حدود سے 14اکتوبر 2026کو نوجوان زین العابدین لاپتہ ہوا تھا جس کے بعد مبینہ اغوا کاروں کی جانب سے اہل خانہ کو تاوان کے لیے فون کالز موصول ہونے لگیں۔مبینہ اغوا کار فون کالز کے ذریعے اہل خانہ سے تاوان کا مطالبہ کرتے اور مغوی کو قتل کرنے، اس کا گلا کاٹنے اور دیگر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے رہے۔مغوی کا کزن فیصل اہل خانہ اور مبینہ اغوا کاروں سے براہ راست رابطہ میں رہا اور اغوا کاروں کی جانب سے کی جانے والی کالز، تاوان کے مطالبات اور دھمکیوں سے اہل خانہ کو آگاہ کرتا رہا۔پولیس نے بتایا کہ بعد ازاں فیصل نے بھی دعویٰ کیا کہ اسے اغوا کرکے لے گئے ہیں جبکہ اس کے ذریعے مغوی زین العابدین کا کٹا ہوا ہاتھ اور دیگر اشیاء اہل خانہ تک پہنچائی گئیں۔واقعہ کے مختلف پہلوؤں، مشکوک سرگرمیوں اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر اسٹیل ٹاؤن پولیس کو فیصل کے کردار پر شبہ ہوا جس کے بعد پولیس نے مغوی کے کزن فیصل ولد ذوالفقار اور اس کے دوست انصر ولد خادم کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کی۔ملزمان نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ 14 اکتوبر 2026 کو یہ لوگ ایک لڑکی کو جی ایم بنگلوز نمبر 15 اسٹیل ٹاؤن کراچی میں لے کر آئے اور فیصل لڑکی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کر رہا تھا تو مقتول زین العابدین نے اس کی ویڈیو بنائی جس پر دونوں کے درمیان تنازع پیدا ہوا اور ہاتھا پائی اور لڑائی جھگڑا ہوا اور فیصل نے اپنے دوست انصر کے ساتھ مل کر زین العابدین کو موقع پرگلا دبا کر قتل کر دیا۔ملزمان نے قتل کی اصل واردات کو چھپانے اور پولیس و اہل خانہ کو گمراہ کرنے کے لیے اغوا کا ڈرامہ رچایا جبکہ لاش کو چھپانے کی غرض سے پلاسٹک تھیلا میں لپیٹ کر چھتری گراؤنڈ پاکستان اسٹیل مل کچرا کنڈی میں پھینک دیا۔پولیس نے ملزمان کی گرفتاری اور دوران تفتیش کیے گئے انکشافات کی روشنی میں چھتری گراؤنڈ سے مقتول زین العابدین کی لاش برآمد کرکے تحویل میں لے لی اور قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا۔پولیس کے مطابق واقعہ کے تمام پہلوؤں، ملزمان کے مبینہ کردار، تاوان کی رقم اور دیگر شواہد کے حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے۔پولیس کی جانب سے قانونی تقاضوں کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
اہم خبریں سے مزید